سرسی ، 6 / اکتوبر (ایس او نیوز) جنگلاتی زمین پر بسنے والے اتی کرم داروں کے حقوق کے لئے سرگرم آتی کرم ہوراٹا سمیتی کے صدر رویندرا نائک نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے جس طرح ایک بڑے تاجر کو ایک روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے جنگلاتی زمین اور 16 ہزار درخت فروخت کیے ہیں اسی پالیسی کے تحت جنگلاتی زمین پر بسنے والے غریبوں کو بھی ہزار روپے کے حساب سے زمین منظور کرے۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام جنگلاتی زمین پر رہتے ہیں تو انہیں رہنے کا حق نہیں دیا جاتا مگر دوسری طرف مرکزی حکومت مخصوص اور سرمایہ دار تاجروں کو ایک روپیہ فی ایکڑ کے حساب سے سرکاری زمینوں کو بانٹنے میں لگی ہے۔
رویندرا نائک نے سرسی میں منعقدہ ریاست کے اتی کرم داروں کے زبردست اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ بالا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے چیف سیکریٹری نے مرکزی حکومت کے رہنما اصول اور سپریم کورٹ کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست میں اتی کرم داروں کو زمین کے حقوق فراہم کرنے کے لئے داخل کی گئی ڈھائی لاکھ سے زائد درخواستوں کو نامنظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے ۔ اس پس منظر میں چیف سیکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لئے عدالت میں عرضی داخل کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ جنگلاتی زمین پر بسنے والے کے حقوق کے ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی ۔
اس اجلاس میں ہوراٹا سمیتی کے ضلع اور تعلقہ جاتی سطح کے عہدیداران اور ذمہ داران موجود تھے ۔