ممبئی ، 5/ اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)ممبئی کے مشہور سدھی ونائک مندر میں نذرانہ گھپلہ معاملے میں مہاراشٹر کی سیاست گرما گئی ہے۔ حال ہی میں مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے مندر میں 18 کروڑ روپے نذرانہ چوری کا دعوی کیا تھا، جس کے بعد مختلف قسم کے سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس دوران معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اہم فیصلہ لیا ہے۔ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے سدھی ونائک مندر کے گزشتہ 5 برسوں کے دوران ’دان پیٹی‘ میں ڈالے گئے نذرانے اور زیورات کا آڈٹ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد مندر انتظامیہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ حکومت کی اس کارروائی سے گھپلے میں ملوث افسران اور ملازمین کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے۔
دراصل ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کچھ دنوں قبل سدھی ونائک مندر میں گھپلے کا الزام لگایا تھا۔ راج ٹھاکرے نے کہا تھا کہ ’’مندر کی دان پیٹی میں ہر سال تقریباً 18 کروڑ روپے کا غبن اور چوری ہو رہی ہے۔‘‘ راج ٹھاکرے نے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کو ایک خط لکھنے کا بھی دعویٰ کیا تھا۔ راج ٹھاکرے نے خط میں دعویٰ کیا تھا کہ مندر کے ملازمین چوری میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کے پکڑے جانے کے بعد نذرانے کی اوسط رقم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ ان کے خط کے مطابق ہر سال تقریباً 18 کروڑ کی چوری ہو رہی ہے۔ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ دوسری جانب ’سدھی ونائک مندر ٹرسٹ‘ نے راج ٹھاکرے کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ ٹرسٹ کے صدر سدا سرونکر اور ٹرسٹی راہل لونڈھے کے مطابق مئی میں ٹرسٹ نے خود ہی قانون اور محکمہ انصاف کو خط لکھ کر گزشتہ 5 برسوں کے نذرانے کی تفصیلی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ بے ضابطگیوں سے متعلق پتہ چلنے پر اس نے سب سے پہلے ’اینٹی کرپشن بیورو‘ (اے سی بی) کے سربراہ وشواس نانگرے پاٹل سے شکایت کی، جس کے بعد مندر میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی۔ مارچ میں دان پیٹی سے پیسے غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ میں کچھ ملازمین چھوٹی دان پیٹی سے نقد نکالتے پکڑے گئے تھے۔ سدا سرونکر نے کہا کہ ’’مندر میں کروڑوں روپے کے غبن کا معاملہ سابقہ کمیٹی کے دور میں سامنے آیا تھا، لیکن بتایا اس طریقے سے گیا کہ موجودہ کمیٹی پر ہی انگشت نمائی کی جا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے وضاحت کی کہ کچھ ملازمین کے ذریعہ نذرانے کی چوری کا معاملہ ’اے سی بی‘ کی مدد سے پکڑا گیا تھا۔ اس کے بعد ٹرسٹ نے محکمہ قانون اور عدلیہ کو خط لکھ کر غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ محکمہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کے پاس ہی ہے۔
سدا سرونکر نے بتایا کہ ایک خط نائب وزیر اعلی شندے کو بھی لکھا گیا تھا، جو کہ کبھی ڈسپیچ نہیں کیا گیا، اور یہ خط راج ٹھاکرے کے ہاتھ لگا۔ انہوں نے بتایا کہ جانچ کے دوران نذرانے کی گنتی اے سی بی افسران کی نگرانی میں کرائی گئی تھی۔ جس میں اہم ملزم راجن پینڈولکر سمیت 9 لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور 46 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کی سی آئی ڈی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ نذرانے کی چوری کے علاوہ آن لائن رقم لے کر وی آئی پی درشن کرانے، پھول فروش اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے ذریعے غیر قانونی درشن کرانے والے نیٹورک پر بھی کارروائی کی گئی۔ مندر انتظامیہ کے مطابق اب ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سدا سرونکر نے الزام لگایا ہے کہ گرفتار کیے گئے کچھ ملازمین کے تعلقات سابق ٹرسٹ بورڈ اور شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) سے تھے۔ حالانکہ ان الزامات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ وہیں گھپلے میں ٹرسٹ کے ذریعہ ادھو ٹھاکرے کی پارٹی پر الزام لگائے جانے کے بعد اب ٹھاکرے کے لیڈران کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ممبئی کی سابق میئر، بی ایم سی میں اپوزیشن لیڈر کشوری پیڈنیکر نے کہا کہ سدا سرونکر جو الزام لگا رہے ہیں کہ یو ٹی بی اس چندہ چوری میں شامل ہے، تو وہ پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہمارے ساتھ ہی تھے اور ہمارے ٹکٹ پر ہی انتخاب جیتتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے رام مندر گھپلے میں چمپت رائے نے استعفیٰ دیا، ویسے ہی انہیں بھی استعفیٰ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کیا ہوا، نہیں ہوا، یہ سب کچھ جانچ ایجنسیاں طے کریں گی۔