بنگلورو، 16 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی): وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کو ’’دنیا کی سب سے بڑی این جی او‘‘ قرار دینے پر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
سدارامیا نے اپنے بیان میں کہا کہ آر ایس ایس کوئی غیر سرکاری تنظیم نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی ایسی تنظیم ہے جو سیاسی مفادات کے لیے نفرت پھیلاتی اور سماج کو تقسیم کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ غیر رجسٹرڈ، ٹیکس نہ دینے والی اور عوام کے درمیان باہمی اختلافات کو ہوا دینے والی تنظیم ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لال قلعہ ہر ہندوستانی کے اتحاد اور آزادی کی علامت ہے، لیکن وزیر اعظم نے اسے بی جے پی کے جلسے کا پلیٹ فارم بنا کر اپنی جماعت کی مادر تنظیم کی تشہیر کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی کی جانب سے آر ایس ایس کی تعریف دراصل ان کی کمزور سیاسی پوزیشن اور اس تنظیم پر انحصار کی عکاسی کرتی ہے۔
سدارامیا نے یاد دلایا کہ آر ایس ایس کا آزادی کی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں رہا۔ اس نے ترنگے کی مخالفت کی، مساوات اور شمولیت کے نظریے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی اور اسی نظریے سے متاثر ہو کر مہاتما گاندھی کا قتل ہوا۔ یہی نہیں بلکہ آزاد ہندوستان میں اس پر نفرت پھیلانے کے الزامات کے تحت تین مرتبہ پابندی بھی عائد کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ آر ایس ایس نے ہندو دھرم کے تنوع اور رواداری کے پیغام کو مسخ کر کے ایک تنگ نظر سوچ میں بدل دیا ہے، جہاں اس کے دائرے سے باہر ہر شخص کو دوسرے درجے کا شہری تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تنظیم دہائیوں سے فرقہ وارانہ فسادات کی منصوبہ بندی اور نوجوان ذہنوں کو گمراہ کرنے میں ملوث رہی ہے اور اس کی فسطائی سوچ ہندوستانی آئین کے خلاف ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یوم آزادی اتحاد، بھائی چارے اور سب کے جذبۂ قربانی کو یاد کرنے کا دن ہے، مگر وزیر اعظم نے اس موقع پر ایک ایسی تنظیم کی تعریف کی جو تقسیم پسندی پر پروان چڑھی اور جس کے بانیوں نے انگریزوں سے تعاون کیا تھا۔ ان کے مطابق آج کے حکمرانوں کا آمرانہ رویہ برطانوی نوآبادیاتی حکمت عملی کی یاد دلاتا ہے۔
سدارامیا نے زور دے کر کہا کہ آزادی ہر مذہب، ذات اور زبان کے لوگوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے اور کوئی بھی تنظیم یا شخص اس اتحاد اور آئین سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ "کوئی وزیر اعظم، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، یوم آزادی کے دن ایسے لوگوں کو خراجِ تحسین پیش نہیں کر سکتا جو ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔"