بینگلورو 15 / ستمبر (ایس او نیوز) آج کل سیاسی حلقوں میں اس بات پر چہ میگوئیاں بڑھ گئی ہیں کہ کیا ریاستی نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورا جیسے کانگریسی لیڈر 'نرم ہندوتوا' کی پالیسی سے قربت دکھانے لگے ہیں ؟
ان سیاسی سرگوشیوں کی وجہ یہ ہے کہ ابھی کچھ دن پہلے ریاستی اسمبلی میں آر ایس ایس کا ترانہ گانے کی وجہ سے ڈی کے شیو کمار تنازعے میں پھنس گئے تھے جس کے بعد انہوں نے کانگریس پارٹی اور انڈیا ایلائنس کے شرکاء سے معافی مانگی تھی ۔ اب ڈاکٹر پرمیشورا نے بی جے پی کی طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد [اے بی وی پی] کے ایک پروگرام میں مبینہ طور پر اپنی شرکت سے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔
اس طرح کے واقعات کے پس منظر میں عام سیاسی حلقوں میں یہ باتیں گردش کر رہی ہیں کہ اب کانگریس کے بااثر لیڈروں کا رجحان 'نرم ہندوتوا، سے ہاتھ ملانے کی سمت میں بڑھتا جا رہا ہے جو کہ انہیں آنے والے انتخابات میں اپنے لئے ووٹ بینک بڑھانے کے لئے ناگزیر محسوس ہو رہا ہے۔
خیال رہے کہ چند دن پہلے اے بی وی پی کی طرف سے چلائی جارہی ایک مہم کے موقع پر ڈاکٹر پرمیشورا نے ٹپتور میں اے وی بی پی کے جلوس میں شریک ہو کر رانی ابّکّا دیوی کی تصویر پر پھول نچھاور کیے تھے ۔ اسی معاملے پر ڈاکٹر پرمیشورا کو بعض حلقوں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔
اس تنازعے پر ریاستی اسمبلی میں حزب اختلاف کے لیڈر آر اشوک نے کہا کہ :"ابّکّا ایک محب وطن خاتون تھیں اور اس پروگرام میں ڈاکٹر پرمیشورا کی شرکت کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔" جبکہ اے بی وی پی کے جوائنٹ سیکریٹری گروپرساد نے بھی اسی قسم کا تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اے بی وی پی ایک طلبہ کی تنظیم ہے اور پرمیشورا کسی ایک پارٹی یا عوام کے ایک طبقے کے وزیر داخلہ نہیں ہیں۔
دوسری طرف اس معاملے پر وزیر داخلہ پرمیشورا سے اختلاف رکھنے والے کانگریسی اس معاملے کو پارٹی ہائی کمان تک لے گئے ہیں ۔ ان کا سوال ہے کہ " کیا بی جے پی کا کوئی لیڈر کبھی کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی طرف سے منعقدہ کسی پروگرام میں شریک ہوتا ہے ؟"
ادھر وزیر داخلہ پرمیشورا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا :" میں نے اے بی وی پی کے کسی پروگرام میں شرکت نہیں کی۔ جب میں اور مقامی کانگریسی ایم ایل اے شادکشری ایک ساتھ تھے تو اچانک ہمارا سامنا رانی ابّکّا کے جلوس سے ہوا ۔ انہوں [اے بی وی پی] نے مجھے بلایا اور پھول پیش کرنے کو کہا اور میں نے کیا ۔ اگر اس پر کوئی سوال اٹھاتا ہے تو انہیں اٹھانے دو، مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ میں ایک کانگریسی ہوں اور کانگریسی کے ساتھ ہی رہ کر مروں گا ۔ ہم سب کے سیاسی مخالفین ہوتے ہیں، جو پارٹی کے اندر بھی ہو سکتے ہیں اور پارٹی کے باہر بھی ۔انہوں نے کہا کہ پرمیشورا کون ہے یہ بات پوری ریاست کے عوام جانتے ہیں ۔ گزشتہ 35 سال سے میں کس قسم کی سیاست کرتا ہوں یہ بات وہ سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ مجھے اس بات کو بار بار ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔"
ویسے ایک حقیقت یہ ہے کہ پرمیشورا جیسے کئی کانگریسی سیاست دان مقامی سیاسی تنظیموں سے ان کی سیاسی پالیسی اور نظریات کی تفریق کے بغیر تعاون کرتے رہے ہیں۔