کوپّل 2/جون (ایس او نیوز) کرناٹک کے ضلع کوپل کے کوشتگی تعلقہ کے تاورگیری گاؤں میں جائیداد کے پرانے تنازعے پر مبینہ طور پر سات افراد کی ایک ٹولی نے بیکری کے اندر ہی ایک شخص پر دھاردارہتھیاروں اور ڈنڈوں سے قاتلانہ حملہ کرتے ہوئے اُسے بہیمانہ طریقے سے ہلاک کر دیا۔ قتل کی واردات وہاں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گئی ہے، جس میں حملہ آوروں کے ظالمانہ مناظر دیکھے گئے ہیں۔ واقعہ ہفتہ، 31 مئی کو پیش آیا تھا، لیکن سی سی ٹی وی فوٹیج کے وائرل ہونے کے بعد ہی میڈیا میں اس کی کوریج ہوئی۔
پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت چنّپّا نارِنال کے طور پر کی گئی ہے، اور ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ قتل کی اصل وجہ دونوں خاندانوں کے درمیان جاری جائیداد کا جھگڑا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چنّپّا نارِنال، جو ایک مقامی بیکری میں کاروبار کر رہا تھا، پر اچانک سات افراد کی ایک ٹولی نے بیکری میں گھس کر حملہ کر دیا۔ ان میں سے دو افراد نے دھاردار آلات سے اُس پر وار کیے، ایک شخص نے لکڑی کے بلاک سے اُس کے سر پر زور دار ضرب لگائی، جب کہ باقی افراد نے بھی مل کر اُس پر حملہ جاری رکھا۔
چنّپّا اپنی جان بچانے کے لیے بیکری سے باہر بھاگنے میں کامیاب تو ہو گیا، لیکن بیکری کے باہر پہلے سے گھات لگائے تین دیگر افراد نے اس پر چاقو سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ بیٹھا۔
واردات کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قتل میں ملوث ساتوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار شدگان کی شناخت روی، پردیپ، منجوناتھ، ناگراج، گوتم، (ایک اور) منجوناتھ، اور پرمود کے طور پر کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق، ابتدائی چھان بین سے ایسا لگ رہا ہے کہ یہ واقعہ جائیداد کے پرانے جھگڑے اور ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ واقعے کی سنگینی کے پیش نظر اعلیٰ پولیس افسران جائے واردات پر پہنچے، جن میں ضلع ایس پی ڈاکٹر ایل آر ارسِدوی، ڈی ایس پی سدھ لِنگپا گوڈا اور سی پی آئی یشونتھ بیسن ہلی شامل ہیں۔ افسران نے جائے واردات کا معائنہ کیا اور تفتیشی عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہولناک واردات میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے اور تفتیش ہر زاویے سے کی جا رہی ہے۔
اس دل دہلا دینے والے قتل نے تاورگیری گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں سنسنی پھیلا دی ہے، کیونکہ حملہ ایک مصروف بیکری میں کئی لوگوں کی موجودگی میں انجام دیا گیا۔ واردات کے بعد مقامی لوگ خوف و ہراس کا شکار ہیں اور واقعے کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔