نئی دہلی، یکم اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) ووٹ چوری کو ختم کرنے، آئین کے تحفظ اور جمہوریت کو بچانے کیلئے اپوزیشن اتحاد نے کمر کس لی ہے۔ بدھ کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں اپوزیشن کی ۲۰؍ پارٹیوں نے شرکت کی اور ایک زبان ہوکر ووٹ چوری کے خلاف متحدہ لڑائی لڑنے کا عزم کیا۔ میٹنگ میںمہاراشٹر سے این سی پی (شرد پوار ) اور شیوسینا(اُدھو) نے شرکت کی۔ اُدھو کی پارٹی کا کوئی لیڈر میٹنگ میں موجود نہیںتھا، انہوں نے آن لائن شرکت کی۔
اپوزیشن نے متفقہ طورپر مطالبہ کیا کہ انتخابات ای وی ایم کی بجائے بیلٹ پیپر سے کرائے جائیں۔اس کیلئے ۲؍ سے ۸؍اکتوبر تک ملک گیر’ جمہوریت بچاؤ‘احتجاجی مارچ نکالے جائیں گے جبکہ ۶؍اکتوبر کو اپوزیشن کے تمام ایم پی الیکشن کمیشن آف انڈیا کے دفتر تک مارچ کریں گے۔ نومبر میں احتجاج کو جاری رکھتے ہوئے ملک بھر میں ۵؍بڑی ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔ یکم نومبر کو دہلی میں ’انڈیا‘ اتحاد کی ایک زبردست ریلی نکالی جائے گی۔
اپوزیشن لیڈروں نے منصفانہ انتخابات کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے گیانیش کمار کو چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے فوری طور پر ہٹانے کے مطالبے کا اعادہ کیا۔اس کے ساتھ ہی آئندہ سبھی انتخابات بیلٹ پیپر سے کرانے کی مانگ کی۔ ایس آئی آر سے قبل کی ووٹرلسٹ کے استعمال اورووٹر لسٹ سے خارج ہونے والے تمام افراد کیلئے موثر اپیل میکانزم کا قیام نیز ووٹروں کو تکنیکی وانتظامی وجوہات کی بناءپر ووٹر لسٹ سے باہر کئے جانے سے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ میٹنگ میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ ۲۰؍پارٹیوںجن میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، این سی پی (شرد پوار)، شیو سینا (ادھوٹھاکرے)آر جے ڈی، سی پی ایم، سی پی آئی، جے کے این سی، جے کے پی ڈی پی، جے ایم ایم، سی پی آئی ایم ایل، آئی یو ایم ایل، کے سی (ایم)، ایم ڈی ایم کے، وی سی کے، آر ایس پی، کے سی (جے) اور اے آئی ایف کے علاوہ راجیہ سبھا کے رکن اور معروف وکیل کپل سبل شامل ہوئے۔ اُدھو کی طرح ہیمنت سورین بھی میٹنگ میں آن لائن شریک ہوئے۔میٹنگ کے بعد کانگریس صدرکھرگے ، اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے میڈیا سے خطاب کیا۔ ممتا بنرجی بہت زیادہ جذباتی نظر آئیں۔