سہارنپور 7/ستمبر (ایس او نیوز/ایجنسی): اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کے انہدام کے بعد ملبے سے 1909 درج ایک اینٹ ملنے اور تقریباً 20 فٹ گہرا قدیم کنواں برآمد ہونے کی اطلاعات نے مسجد اور اس مقام کی تاریخ سے متعلق بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ کنویں کی تاریخی حیثیت معلوم کرنے کے لیے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (ASI) نے بھی جانچ شروع کردی ہے۔
5 ستمبر کو سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو انتظامیہ نے بھاری پولیس بندوبست کے درمیان منہدم کردیا تھا۔ انتظامیہ کے مطابق یہ ڈھانچہ سرکاری اراضی پر غیر مجاز تعمیر قرار دیا گیا تھا اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے دائر اپیل مقامی عدالت میں مسترد ہونے کے بعد کارروائی کی گئی۔ تاہم مسجد کے متولی اور مسلم فریق کا کہنا ہے کہ انہیں ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق، اگر ہائی کورٹ سے بھی اپیل مسترد ہوتی تو انہیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا قانونی حق حاصل تھا، لیکن یوگی حکومت کی انتظامیہ نے 5 ستمبر کی علی الصبح تقریباً پانچ بجے بھاری پولیس فورس کے ساتھ اچانک کارروائی کرتے ہوئے مسجد پر بلڈوزر چلا دیا۔ مسلم فریق نے کارروائی کے طریقۂ کار اور قانونی چارہ جوئی کا مکمل موقع نہ دیے جانے پر سخت اعتراض کیا ہے۔

مسجد کے انہدام کے اگلے روز ملبہ ہٹاتے وقت ایک سلیب کے نیچے اینٹوں سے بنا ہوا کنواں سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کنواں تقریباً 20 فٹ گہرا اور ڈیڑھ میٹر چوڑا ہے؛ حکام کے مطابق ابتدائی طور پر یہ تقریباً ایک صدی پرانا معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی حقیقی عمر اور تاریخی اہمیت کا تعین ماہرین کی جانچ کے بعد ہی ہوسکے گا۔ انتظامیہ نے کنویں کو محفوظ کرتے ہوئے آثارِ قدیمہ کے ماہرین سے جانچ کرانے کا فیصلہ کیا۔
7 ستمبر کو ASI کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر کنویں کی ساخت اور تعمیر کا معائنہ کیا اور مزید تحقیق کے لیے اس کے نمونے بھی حاصل کیے۔ ماہرین یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کنواں کس دور میں تعمیر ہوا تھا۔ ماضی میں پائپ لائن کے ذریعے پانی کی فراہمی عام ہونے سے پہلے کنویں شہری اور مذہبی مقامات پر پانی کا اہم ذریعہ ہوتے تھے، جبکہ مساجد کے قریب یا احاطے میں وضو اور دیگر ضروریات کے لیے کنویں کا ہونا بھی غیر معمولی نہیں تھا۔
اسی دوران مسجد کے ملبے سے 1909 درج ایک اینٹ ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ میں ہڑکمپ مچ گیا ہے۔ اینٹ کی تصویر اور اس پر درج سال نے مقامی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی ہے؛ مسجد انتظامیہ اسے مسجد کے سو سال سے زیادہ پرانی ہونے کے ثبوت کے طور پر پیش کررہی ہے۔
مسجد کی قدامت کے حوالے سے مسلم فریق پہلے ہی پرانے ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا دعویٰ کرچکا ہے۔ اطلاع کے مطابق مسجد کمیٹی نے مسجد کی قدامت کے ثبوت کے طور پر یکم جنوری 1911 کا بجلی کا بل بھی پیش کیا تھا؛ جبکہ مسلم فریق نے مسجد کو ایک صدی سے زیادہ پرانا قرار دیا ہے۔
مسجد کے انہدام کے طریقۂ کار پر بھی مسلم فریق اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا میں اس بات پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ مسجد کو 115 سال پرانا قرار دیے جانے کے باوجود اسے کیسے منہدم کیا جاسکتا ہے؛ مجسٹریٹ کورٹ کے حکم اور کارروائی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جارہا ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے انہدامی کارروائی کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قانونی لڑائی جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے؛ جبکہ اے آئی ایم آئی ایم سربراہ اسد الدین اویسی نے قانونی کارروائی مکمل ہونے سے قبل بلڈوزر کارروائی پر سوال اٹھائے ہیں۔
اس طرح 1909 درج اینٹ، قدیم کنواں اور مسجد کی قدامت سے متعلق پرانے دستاویزات نے اس مقام کی تاریخ کو بحث کا اہم موضوع بنا دیا ہے؛ جبکہ ASI کی جانچ سے کنویں کی عمر، اس کے تاریخی پس منظر اور مسجد سے اس کے ممکنہ تعلق کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ دوسری طرف مسلم فریق کا دعویٰ ہے کہ اسے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرنے کا مکمل موقع نہیں دیا گیا؛ جس کی بنیاد پر یوگی حکومت اور انتظامیہ پر قانونی طریقۂ کار کو نظرانداز کرنے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں اور سوال اٹھایا جارہا ہے کہ جب مزید قانونی راستے موجود تھے تو مسجد کو اتنی عجلت میں کیوں منہدم کیا گیا۔