کاروار، 6 / مئی (ایس او نیوز) اتر کنڑا کے عوام گزشتہ برسوں کی طرح امسال مانسون میں بھی چٹانیں کھسکنے کے خوف میں مبتلا ہیں، کیونکہ ماہرین ارضیات کی نشاندہی کے باوجود حکومت نے ابھی تک اس تعلق سے کوئی بھی کارروائی نہیں کی ہے ۔
گزشتہ مانسون کے دوران ضلع اتر کنڑا کے مختلف مقامات پر زمین اور چٹانیں کھسکنے کی حادثات پیش آئے تھے، لیکن سب سے بڑا حادثہ انکولہ تعلقہ کے شیرور کا تھا جہاں پہاڑ کھسکنے کی وجہ سے 11 افراد کی موت واقع ہوئی تھی اور ان میں دو افراد کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ۔
اس پس منظر میں ماہرین ارضیات کی ایک ٹیم نے ضلع بھر میں 439 ایسے مقامات کا جائزہ لیا تھا جہاں چٹانیں یا زمین کھسکنے کے امکانات موجود ہیں، جس میں خصوصی طور پر نیشنل ہائی وے توسیع کے لئے کاٹے گئے پہاڑوں اور چٹانوں کے علاقے شامل ہیں ۔ ماہرین نے خطرات والے علاقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کی تھی ۔ اس بات کو تقریباً ایک سال کا عرصہ ہو رہا ہے اور پھر ایک بار مانسون کا موسم قریب آ رہا ہے ۔ مگر تا حال ایسے حادثات کو روکنے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔
اس معاملے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ضلع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ساجد ملا نے بتایا کہ زمین کھسکنے کے امکانات کے پس منظر میں حفاظتی اقدامات کرنے کے لئے ایک کروڑ روپے لاگت کا ایک منصوبہ ریاستی حکومت کو پیش کیا گیا ہے ۔ حکومت کی طرف سے ابھی اس کا جائزہ لے رہا ہے ۔ جیسے اسے منظوری ملے گی، ضروری کام کی شروعات ہوگی ۔
پتہ چلا ہے کہ ریاستی حکومت نے ملناڈ کے علاقے میں زمین اور چٹانیں کھسکنے کے واقعات پر روک لگانے کے لئے 200 کروڑ روپوں کی لاگت کا منصوبہ منظور کیا ہے ۔ لیکن تا حال اس فنڈ کا استعمال نہیں کیا گیا ہے ۔ دوسری طرف ضلع اتر کنڑا میں پچھلے کچھ برسوں میں 600 زیادہ زمین کھسکنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں ۔ حال ہی میں یان میں زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے جس کا اثر ضلع کے مختلف مقامات پر دکھائی دیا ۔ اس کے باوجود ریاستی حکومت نے مانسون سے پہلے ضلع اتر کنڑا میں کوئی حفاظتی اقدام کرنے پر دھیان نہیں دیا ہے ۔ یہاں تک گزشتہ سال انکولہ کے شیرور میں پہاڑ کھسکنے کا جو بدترین حادثہ پیش آیا تھا، اس مقام پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ موجود رہنے کے باوجود ریاستی حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کے سلسلے میں کوئی پیشگی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے ۔