منگلورو 30/مئی (ایس او نیوز) دکشن کنڑا میں تقریباً ایک ہفتے سے ہو رہی بارش کا سلسلہ کل رات شدید رخ اختیار کر گیا جس کے بعد منگلورو شہر کے اکثر علاقے ندیوں اور تالابوں میں تبدیل ہو گئے ۔ نشیبی علاقوں کے مکانوں کے ساتھ ساتھ سٹی سینٹر کی بعض دکانوں کے علاوہ پی وی ایس سرکل، پڈیل اور بجال جیسے مقامات پر بھی دکانوں میں پانی گھسنے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے ۔
شہر میں برسات کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے نمٹنے میں عوام نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور مشن اسٹریٹ، راو اینڈ راو سرکل اور کوپار ہیتلو جیسے علاقوں میں پھنسے افراد کو بڑی مشقت کے ساتھ نکالتے ہوئے انہیں محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ۔
مکان گرنے سے تین افراد فوت : الال تعلقہ کے منجناڈی گاوں سے ملی خبر کے مطابق آج صبح مونٹے پڈاو میں ایک مکان گرنے سے پریما پجاری (58 سال) نامی ایک خاتون کی موت واقع ہوئی ۔ اس کا شوہر اور بیٹا شدید زخمی ہوا ہے ۔ پریما کی بہو اشوینی اور اس کے بچے آرین (3 سال) اور آروشا (2 سال) ملبے میں دب گئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ جب مکان گرنے کا واقعہ پیش آیا اس وقت یہ تینوں گھر کے اندر سوئے ہوئے تھے ۔ بڑی مشقت کے بعد ریسکیو ٹیم نے ملبے سے شدید زخمی حالت میں اشوینی کو باہر نکالا جبکہ اس کے دونوں بچوں کی لاشیں بازیافت ہوئیں۔
راحت رسانی میں رکاوٹ : علی الصبح 4 بجے کے وقت مکان گرتے ہی مقامی افراد مدد کے لئے دوڑ پڑے اور ملبے میں پھنسے لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی مگر چونکہ پورے کا پورا مکان بیٹھ گیا تھا اس لئے یہ کام مشکل ہوگیا ۔ اس کے بعد این ڈی آر ایف، ایس ڈی آر ایف کے علاوہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسس اور پولیس والے پہنچ گئے اور ملبہ ہٹانے کا کام تیز کر دیا ۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مکان گرنے کے بعد تھوڑی دیر تک ملبے میں دبی ہوئی اشوینی کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں اور ایک بچے کے رونے کی آوازیں بھی آ رہی تھیں جو بعد میں بند ہوگئیں ۔ راحت رسانی کے کام میں مسلسل برسات رکاوٹ کا سبب بن گئی تھی ۔
بچوں کو بچانے کی کوشش : راحت رسانی کے موقع موجود افراد نے بتایا کہ زمین کھسکنے کی وجہ سے جب گھر کا ملبہ گر رہا تھا تو اشوینی نے دوڑ کر اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کی تھی اوراپنی پیٹھ گرتے ہوئے ملبے کی طرف کرکے بچوں کو اپنے پیٹ کے نیچے چمٹائے رکھنے کی کوشش کی تھی ، لیکن چونکہ وہ خود ایک بڑے سلیب کے ملبے میں پھنس گئی تھیں اس لئے بچوں کو پوری طرح اپنی بانہوں میں لے نہیں پائی ۔ آرین ملبہ گرتے ہی فوت ہوگیا تھا جبکہ آروشا نامی بچی نے ملبے سے باہر نکلنے کی جد و جہد کی تھی ۔
سی ایم سی نے احتیاطی اقدام نہیں کیا : منگلورو شہر میں برسات سے جو سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس کے بارے میں عوام کی شکایت ہے کہ پچھلے کچھ دنوں مین ہول بلاک ہونے اور گٹر کا پانی سڑکوں پر بہنے کے باوجود میونسپل کارپوریشن نے اسے درست کرنے کے سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا جس کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں سڑکوں پر گھٹنوں تک پانی جمع ہوگیا اور الیکٹرک ٹرانسفارمرس سے بجلی خارج ہونے اور بجلی کے تار گرنے کے خدشات کے پیش نظر ان سڑکوں پر گزرنا عوام کے لئے اپنی جان جوکھم ڈالنے کے برابر ہوگیا ۔
نقصان کے لئے سی ایم سی ذمہ دار : سڑک کنارے بیوپار کرنے والوں کی ایسوسی ایشن کے صدر امتیاز نے برسات کی وجہ سے دکانداروں کو ہوئے بھاری نقصان کے لئے میونسپل کارپوریشن کی غفلت اور سڑک کے غیر سائنٹفک تعمیری کام کو ذمہ دار قرار دیا ۔
شہر کے بیچوں بیچ کے ایس آر ٹی سی بس اسٹینڈ کے پاس ایک بہت بڑا درخت زمین سے اکھڑ کر سڑک پر گر گیا اس کی وجہ سے یہاں موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ۔ امبیڈکر سرکل کے پاس بڑے پیمانے پر جمع ہوئے پانی کی وجہ سے بین الریاستی بسوں اور کالج کے طلبہ کو سخت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
گھر کی دیوار گرنے سے بچی ہلاک : پہاڑی زمین کھسکنے کی وجہ سے ایک اور بچی فوت ہونے کا معاملہ بیلو گراما میں پیش آیا ہے ۔ فوت ہوئی بچی کا نام نعیمہ بنت نوشاد بتایا گیا ہے ۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب نوشاد کے مکان کے پیچھے کی پہاڑی مٹی کھسک گئی جس کی وجہ رکاوٹی دیوار بھی گر گئی اور اس دیوار کا کچھ حصہ کھڑکی سے ہوتا ہوا گھر کے اندر داخل ہوگیا اور بچی کے اوپر گر گیا ۔
منگلورو سینٹرل اور جنکشن کے درمیان جیپو کے قریب ریلوے لائن پر ایک بڑا درخت گر گیا جس کی وجہ سے بجلی کے تار بھی ٹوٹ کر گر گئے ۔ اس کے بعد ٹرین کی ٹریفک کو سنگل روٹ پر موڑ دیا گیا ۔
جوکٹے پنچایت کے حدود میں پہاڑی کی مٹی کھسکنے کی وجہ سے قریب میں واقع مکانات گرنے کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ مقامی باشندے سے اس تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر برسات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو پھر یہاں مزید مٹی کھسکنے کے امکانات ہیں اور دیگر مکانات کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
منگلورو کے مضافات کومپالہ میں ایک مہیندرا تھار اور ایک ماروتی سوزوکی سوفٹ کار کو سیلابی پانی میں بہتے ہوئے دیکھا گیا جس کے بعد وہ کاریں بیچ سڑک پر آ کر رک گئیں ۔
الال تعلقہ کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ کومپالا، کلاپو، دھرمانگرو، اوچیلا، تلپاڈی، ودیا نگر اور کلکتہ میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے ۔ گھروں کے اندر پانی گھسنے کی وجہ سے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا ہے ۔ صرف ایک کلاپو میں ہی پچاس سے زائد گھروں کے اندر پانی گھس گیا ہے ۔
دکشن کنڑا ضلع کے مختلف نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور لوگوں کے جان و مال کے لئے خطرہ لاحق ہونے کی خبریں مل رہی ہیں ۔