ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / اندور میں طلبہ سے خطاب، راہل گاندھی کا ’سسٹم‘ پر سخت حملہ، مودی حکومت پر کئی سنگین الزامات

اندور میں طلبہ سے خطاب، راہل گاندھی کا ’سسٹم‘ پر سخت حملہ، مودی حکومت پر کئی سنگین الزامات

Sun, 20 Sep 2026 11:41:54    S O News

 اندور، 20/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے پانچویں ایڈیشن میں اندور میں ہزاروں طلبہ اور جین زی نوجوانوں سے کھچا کھچ بھرے میدان میں راہل گاندھی نے برسراقتدار طبقہ پر سنگین الزامات عائد کئے اور اسے ’سنڈیکیٹ‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے سسٹم قرار دیا۔ اس پروگرام کےلئے ۱۰؍ لاکھ سے زائد رجسٹریشن ہوئے ہیں جس سے بی جے پی پہلے ہی گھبرائی ہوئی ہے۔

راہل نے اپنے خطاب کے دوران واضح طور پر کہا کہ ملک پر سسٹم کا قبضہ ہے، اس نے ملک کو یرغمال بنالیا ہے۔ اس کے ٹاپ پر ۶؍ افراد بیٹھے ہیں۔ انہوں نے ان ۶؍ افرادکی تفصیل بھی بیان کی اور بتایا کہ سب سے پہلے مقام پر نریندر مودی ہیں، جو سسٹم کو چلاتے ہیں۔ دوسرے مقام پر امیت شاہ کا ذکر کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ ملک کو بھڑکاتے ہیں اور اسٹوڈنٹس کی پٹائی کرواتے ہیں۔ اجیت ڈوبھال سے متعلق انہوں نے کہا کہ وہ نریندر مودی اور امیت شاہ کو ہر طرح کی معلومات دیتے ہیں۔ چوتھے مقام پر انہوں نے آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کا نام لیا، جو نظریات کی باتیں کرتے ہیں اور نفرت کا پرچار کرتے ہیں۔ پانچویں اور چھٹے مقام پر راہل نے اڈانی-امبانی کا نام لیا، جن کے بارے میں کہا کہ وہ پورے سسٹم کو فائنانس کرتے ہیں اور فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔

راہل گاندھی نے اندور کے میدان میں جمع ہزاروں نوجوانوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کو طلبہ اور جین سے خطرہ ہےکیونکہ وہ سوال پوچھتے ہیں۔ اسٹوڈنٹس پوچھتے ہیں کہ امیت شاہ کے بیٹے آئی سی سی کے چیئرمین کیسے بن گئے؟ ملک کے پورے بزنس پر صرف ۲؍ افراد نےقبضہ کیسےاور کس سے پوچھ کر کرلیا؟ عدلیہ سمیت باقی ادارے اپنا کام کیوں نہیں کر رہے؟ الیکشن کمیشن اپنا کام کیوں نہیں کر رہا ہے؟

اندور میں ایک طالبہ نے راہل گاندھی کے سامنے اسٹوڈنٹس کے مسائل رکھنے کے ساتھ ساتھ سرکاری عہدوں پر تقرری روکے جانے کا سنگین مسئلہ اٹھایا۔ اس پر مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں سسٹم کی زبردست ناکامی کا ذکر کرتے ہوئےراہل گاندھی نے کہا کہ اندور کے پروگرام کا موضوع اسی لئے سسٹم رکھا گیا ہے۔ آج کا موضوع ’سسٹم بنام اسٹوڈنٹس‘ ہوگا۔ طلبا بتائیں گے کہ سسٹم کیا ہے، وہ طلبا کو کس طرح متاثر کر رہا ہے اور ان کے مستقبل کے سامنے کس طرح کے چیلنجز کھڑے ہو رہے ہیں۔ بی جے پی مدھیہ پردیش میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ اسے میں بی جے پی کی تمام حکومتوں میں سب سے کرپٹ حکومت مانتا ہوں۔ اس کی ناکامی کی وجہ سے ہی یہاں کے ہزاروں طلبہ کا مستقبل ماند پڑ گیا ہے۔

راہل گاندھی نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر حملے میں شدت لاتے ہوئے کہا کہ اس استحصالی سسٹم کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ اندھ بھکت بنائے جائیں کیوں کہ وہ سوال نہیں کرتے۔ وہ بس چپ چاپ فالو کرتے ہیں۔ اسی لئے یہ سسٹم اندھ بھکت پیدا کررہا ہے۔ اس سسٹم کو یہی لوگ پسند ہیں۔ یہ لوگ جو سوال نہ کریں صرف اپنے آقائوں کے اشاروں پر ناچیں اور اپنے تمام وسائل و دولت ان کو سونپ دیں۔

راہل نے پروگرام کے دوران پاور پوائنٹ سلائڈ کے ذریعے بتایا کہ مرکزی حکومت نے تعلیم کا بجٹ نصف کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۴ءتک جب یو پی اے کی حکومت تھی تب تک تعلیم کا مکمل بجٹ ۴ء۶؍ فیصد تھا لیکن مودی سرکار آتے ہی یہ بجٹ بتدریج کم کیا گیا اور اس سال یہ محض ۲ء۶؍ فیصد رہ گیا ہے۔ لاکھوں کروڑ کی یہ جو رقم بچ رہی ہے وہ کہاں جارہی ہے ؟وہ اڈانی اور امبانی جیسے دھنا سیٹھوں کی جیب میں جارہا ہے۔ 


Share: