بارہ بنکی، 10 فروری (ایس او نیوز): اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے منگل کے روز ایک متنازعہ بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’قیامت کا دن کبھی نہیں آئے گا‘‘۔ انہوں نے اپنی بات میں شدت پیدا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح قیامت کبھی نہیں آئے گی، اسی طرح بابری مسجد بھی دوبارہ تعمیر نہیں ہوگی۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ایودھیا سے متصل ضلع بارہ بنکی میں ایک مذہبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ جو لوگ قیامت آنے کی بات کرتے ہیں، وہ دن کبھی آنے والا نہیں ہے، لہٰذا بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قیامت کے منتظر ہیں، وہ خود مٹ جائیں گے، لیکن وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں مسلمانوں کا عقیدہ قیامت پر ایمان سے جڑا ہوا ہے، اپنے آپ کو ایک ہندو یوگی کے طور پر پیش کرنے والے اور خود کو ہندوؤں کا مسیحا سمجھنے والے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے قیامت کے ہی انکار کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے رام مندر کی تعمیر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے وعدہ کیا تھا کہ مندر وہیں بنے گا اور وہ بن چکا ہے۔‘‘ انہوں نے عوام سے پوچھا کہ کیا اس میں کسی قسم کا کوئی شک ہے؟ اس موقع پر مجمع نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگائے۔
واضح رہے کہ بابری مسجد کا تنازع ایک صدی سے زائد پرانا ہے، جسے سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019 کے فیصلے میں نمٹاتے ہوئے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور مسجد کے لیے متبادل زمین فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔
آدتیہ ناتھ نے کہا کہ 500 سال بعد ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا “شان دار لمحہ” آیا ہے انہوں نے سوال کیا، “ان 500 برسوں میں کئی راجے اور بادشاہ آئے، کئی حکومتیں بنیں۔ 1947 میں ملک آزاد ہوا اور 1952 میں پہلے انتخابات کے بعد حکومتیں تشکیل پائیں۔ مگر ان میں سے کسی کو بھی رام کی جنم بھومی پر مندر بنانے کا خیال کیوں نہ آیا؟”
اپوزیشن جماعتوں پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رام دروہیوں (رام کے غداروں) کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، “کچھ لوگ موقع پرستانہ رویہ اپناتے ہیں۔ مصیبت کے وقت رام کو یاد کرتے ہیں اور بعد میں بھول جاتے ہیں۔ اب بھگوان رام نے بھی انہیں بھلا دیا ہے۔ رام دروہیوں کے لیے کہیں کوئی جگہ نہیں ہے۔”
حملہ مزید تیز کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے کہا، “ہم ان لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں جو رام بھکتوں پر گولیاں چلاتے تھے، رام کے کام میں رکاوٹ ڈالتے تھے اور جو آج بھی بابری ڈھانچے کے خواب دیکھ رہے ہیں: قیامت کا دن کبھی نہیں آئے گا۔ قیامت کے انتظار میں مت جیو، بھارت کے قوانین کے مطابق جینا سیکھو۔”۔
انہوں نے کہا کہ ہر ہندوستانی کو ‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’ کے وژن کے لیے مثبت سوچ کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ آگے کہا، “ہر سنت کی سادھنا اپنے دیش کے لیے ہوتی ہے۔ اس کا دھرم بھی ملک کے لیے وقف ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایک جسم ہے اور دوسرا روح، دونوں کو الگ نہیں رکھا جا سکتا۔” انہوں نےواضح کیا کہ بھارت کو سناتن دھرم سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
“اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ سناتن دھرم، بھارت اور بھارتیّت پر دنیا بھر سے حملے ہو رہے ہیں۔ ہمیں اندرونی اور بیرونی حملوں کے خلاف چوکس رہنا ہوگا، کیونکہ جنہیں بھارت کی ترقی پسند نہیں، جو وکست بھارت کے عزم کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں، وہ سازشوں میں لگے ہوئے ہیں،”