ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پتور : بی جے پی لیڈر کے بیٹے کے ہاتھوں جنسی استحصال : بچے کو جنم دینے والی متاثرہ لڑکی کی ماں نے میڈیا سے کیا انصاف دلانے کا مطالبہ

پتور : بی جے پی لیڈر کے بیٹے کے ہاتھوں جنسی استحصال : بچے کو جنم دینے والی متاثرہ لڑکی کی ماں نے میڈیا سے کیا انصاف دلانے کا مطالبہ

Tue, 01 Jul 2025 17:18:22    S O News
پتور : بی جے پی لیڈر کے بیٹے کے ہاتھوں جنسی استحصال : بچے کو جنم دینے والی متاثرہ لڑکی کی ماں نے میڈیا سے کیا انصاف دلانے کا مطالبہ

پتور ،یکم / جولائی (ایس او نیوز)  شادی کا جھوٹا وعدے کرتے ہوئے  بی جے پی لیڈر کے بیٹے کے ذریعہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہونے کے بعد حال ہی میں بچے کو جنم دینے والی ایک نوجوان طالبہ کی ماں نے عوام اور میڈیا والوں سے اپنی بیٹی کو انصاف دلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
 
   خیال رہے کہ شادی کے وعدے پر لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرکے اسے حاملہ بنانے کے بعد فرار ہونے والا ملزم کرشنا جے راو علاقے کے بی جے پی لیڈر جگن نواس راو کا بیٹا ہے ۔ 
   
پتور پریس کلب میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے  متاثرہ لڑکی کے گھر والوں نے اس معاملے میں سیاسی دباؤ ہونے اور پولیس کی بے عملی کا الزام لگایا ہے ۔ 
  
متاثرہ لڑکی کی ماں نے کہا کہ اس کی بیٹی، جو ایک طالب علم ہے، کرشنا کے ساتھ ان کے ہائی اسکول کے دنوں سے ہی تعلقات میں تھی ۔ مبینہ طور پر اس یقین کے ساتھ رشتہ جسمانی تعلقات میں بدل گیا کہ وہ اس سے شادی کرے گا ۔ تاہم جب لڑکی حاملہ ہوئی تو گھر والوں کو حمل کے ساتویں مہینے میں ہی اس کا علم ہوا ۔
  
ماں نے بتایا کہ جب "میں نے کرشنا کے والد سے رابطہ کیا تو انہوں نے دونوں کی شادی کرنے کا وعدہ کیا ۔ لیکن اس کے فوراً بعد کرشنا نے خود فون کیا اور دھمکی دی کہ اگر ہم نے شادی پر اصرار کیا تو وہ خودکشی کر کے مر جائے گا ۔"
   
اس کے بعد لڑکی کے گھر والوں نے پتور ویمنس پولیس اسٹیشن سے شکایت درج کرانے کے لیے رجوع کیا تو ملزم کے والد پی جی جگن نواس راؤ نے مبینہ طور پر ایم ایل اے اشوک کمار رائے سے فون کے ذریعے رابطہ کیا ۔ متاثرہ لڑکی کی ماں کا دعویٰ ہے کہ ایم ایل اے نے ذاتی طور پر ملزم لڑکے کے مستقبل کے بارے میں تشویش کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے شکایت درج نہ کرنے کو کہا اور اسے یقین دلایا کہ شادی ہو جائے گی ۔
   
اسی کے ساتھ جگن نواس راؤ نے پولیس اسٹیشن میں ہی شادی سے اتفاق کرتے ہوئے ایک تحریری یقین دہانی کرائی ۔ لیکن 22 جون کو کرشنا کی عمر 21 سال کے ہونے سے محض ایک دن پہلے، مبینہ طور پر اس نے دوبارہ فون کیا اور لڑکی سے شادی کرنے سے انکار کردیا ۔ کرشنا راو کی والدہ نے مبینہ طور پر انہیں بتایا کہ شادی "کبھی نہیں ہوگی، یہاں تک کہ خواب میں بھی نہیں"۔ 
   
لڑکی کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پرانہیں اسقاط حمل کے لیے رقم کی پیشکش بھی کی گئی تھی جسے انہوں نے مسترد کر دیا اور اب

لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا ہے ۔ متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ کرشنا اس نوزائیدہ بچے کا باپ ہے اور وہ لوگ ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کے لئے تیار ہین ۔  تاہم، جگن نواسا راؤ نے ڈی این اے ٹیسٹ پر اعتراض کیا اور اس کے بجائے کرشنا کو مہلنگیشور مندر کے سامنے حلف لینے کا مشورہ دیا اور یہ اعلان کیا کہ بچہ ان کا نہیں ہے ۔ اب بچے کی عمر تین ماہ مکمل ہونے کے بعد متاثرہ خاندان نے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا ہے ۔
 
د ائیں بازو کے لیڈروں نے مدد نہیں کی :متاثرہ لڑکی کی ماں کا دعویٰ ہے کہ ایم ایل اے اشوک رائے، دائیں بازو کے لیڈر ارون، پوتھیلا، شرن پمپ ویل کسی نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا ۔  اس کا کہنا ہے  کہ جب انہوں نے پہلی بار قانونی کارروائی کی کوشش کی تو ایم ایل اے اشوک رائے نے ان کی حوصلہ شکنی کی ۔ جب انہوں نے مدد کے لیے ہندو رہنماؤں ارون کمار پوتھیلا، مرلی کرشنا ہاسنتڈکا اور شرن پمپ ویل سے رابطہ کیا  تو ان سے بھی کوئی مدد نہیں ملی۔ 
   
لڑکی کی ماں کا الزام ہے کہ "ارون پوتھیلا نے مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، مرلی کرشنا نے کہا کہ لڑکا راضی نہیں ہوگا، اور بعد میں اس نے بچے کے اسقاط حمل کے لیے 10 لاکھ روپے کے تصفیے کا بھی مشورہ دیا "  ماں نے لڑکی کی ذات اور پس منظر کی وجہ سے مقامی رہنماؤں پر بے حسی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ

"اگر میری بیٹی کسی اور برادری سے ہوتی تو یہ شادی پہلے ہی طے پا چکی ہوتی ۔" 
   
معلوم ہوا ہے کہ کرشنا کے لاپتہ ہوئے پانچ چھ دن گزر جانے کے باوجود پولیس ابھی تک اسے گرفتار نہیں کر پائی ہے ۔ لڑکی کے خاندان والوں نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سے بھی ملاقات کی ہے، لیکن محکمہ پولیس کی خاموشی کی وجہ سے ان کی مایوسی مزید بڑھ گئی ہے ۔
  
جنسی استحصال کے نتیجے میں بغیر شادی کے بچے کو جنم دینے والی متاثرہ لڑکی کی والدہ نے حکام، میڈیا اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی بیٹی اور نومولود بچے کو انصاف دلانے میں مدد کریں ۔


Share: