منگلورو، 9 / جولائی (ایس او نیوز) 'دکشن کنڑا' کا نام بدل کر 'منگلورو ضلع' کرنے کا مطالبہ ایک عرصے سے چل رہا تھا مگر اب نام تبدیل کرنے کی یہ تجویز مشترکہ طور پر تمام اراکین اسمبلی کی طرف سے ضلع انتظامیہ کے توسط سے حکومت کو پیش کی جائے گی ۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق رکن پارلیمان کیپٹن برجیش چوتا کی صدارت میں منعقدہ ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کوآرڈینیشن اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی (دیشا) کی میٹنگ میں بیلتنگڈی کے رکن اسمبلی ہریش پونجا کی طرف سے پیش کی گئی دکشن کنڑا کا نام بدلنے کی تجویز پر مذکورہ بالا فیصلہ کیا گیا ۔
میٹنگ کے دوران اس تجویز کے تعلق سے رکن اسمبلی ہریش پونجا نے کہا کہ بڑی مدت سے دکشن کنڑا کے نام کو منگلورو ضلع میں بدلنے کی مانگ کی جا رہی ہے ۔ ضلع انتظامیہ کو اس تجویز کی حمایت میں قرار داد منظور کرنی چاہیے کیونکہ "منگلورو" برانڈ پہلے ہی سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت رکھتا ہے ۔ اس لئے باضابطہ طور پر نام کی تبدیلی سے اس ضلع کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا ۔ ایم پی برجیش چوتا اور دیگر حاضرین نے بھی اس تجویز کی حمایت کی ۔ جس کے بعد ضلع ڈپٹی کمشنر ایچ وی درشن نے بتایا کہ سرکاری طور پر ضلع کا نام تبدیل کرنے کی تجویز حکومت کو ارسال کی جائے گی ۔
تُلومومنٹ کی حمایت :ڈسٹرکٹ تُولومومنٹ کمیٹی کے رکن اور سابق تُولو ساہتیہ اکیڈمی کے صدر دیانند کاتھلسر نے بھی پریس کانفرنس میں دکشن کنڑا کو منگلورو ضلع کا نام دینے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تمل زبان کے سنگم لٹریچر میں بھی اس ضلع کا حوالہ تُلو ناڈو کے طور پر موجود ہے ۔ وجیا نگر سلطنت کے دوران اسے 'منگلورو راجیہ' اور 'بارکور راجیہ' میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ حالانکہ ہم پرتگالیوں اور انگریزوں کے راج سے آزاد ہوئے ہیں مگر اس کے بعد بھی ان کی طرف سے دئے 'ساوتھ کینرا' اور 'ڈی کے' (دکشن کنڑا) جیسے ناموں سے ابھی تک چھٹکارہ نہیں ملا ہے ۔ اس لئے ضلع کا تبدیل کرنا ضروری ہے ۔
کے پی سی سی جنرل سیکریٹری کی حمایت :کے پی سی سی کے جنرل سیکریٹری رکشیت شیوا رام نے کہا کہ جب ایس کرشنا کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ تھے تو اس وقت انہوں نے برانڈ بینگلورو کا تصور پیش کیا تھا ۔ اسی طرح اب 'برانڈ منگلورو' کا وقت آ گیا ہے ۔ ہم لوگ جلد ہی اس معاملے پر وزیر اعلیٰ ، نائب وزیر اعلیٰ اور ضلع انچارج وزیر سے ملاقات کریں گے ۔
تہواروں کے لئے پولیس کی ہدایات پر اعتراض : میٹنگ کے دوران کئی بی جے پی اراکین اسمبلی نے منگلورو سٹی پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے تہوار منانے کے رہنما اصولوں اور پابندیوں پر اعتراض جتایا۔ منگلورو نارتھ کے ایم ایل اے بھرت شیٹی نے کہا کہ اس طرح کے رہنما اصول جاری کرنے کا مقصد عوامی تحفظ کو یقینی بنانا رہا ہوگا مگر تہوار کے لئے مقررہ اوقات کے سلسلے میں سختی کی وجہ سے روایات کے مطابق تہوار منانے میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ انہوں نے جلسوں کے منتظمین پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی جو ذمہ داری ڈالی گئی ہے اس پر بھی اعتراض جتایا۔
منگلورو ساوتھ کے ایم ایل اے ویدا ویاس کامت نے بھی اپنا اعتراض درج کرواتے ہوئے کہا کہ دسہرا جیسے اور بھی مذہبی تہواروں سے متعلقہ پروگرام خصوصی طور پر دیر رات کو منعقد کیے جاتے ہیں۔ کیا ایسے پروگراموں کو رات 10.30 بجے تک ختم کرنا عملاً ممکن ہے؟
اس معاملے پر ضلع ڈپٹی کمشنر درشن نے کہا کہ وہ اس سلسلے میں ایک متوازن حل نکالنے کے لئے سٹی پولیس کمشنرسدھیر کمار ریڈی سے بات کریں گے ۔
اسکولوں میں مذہبی تہوار :سولیا کی رکن اسمبلی بھاگیرتی مرولیا نے محکمہ تعلیمات کی طرف سے اسکولوں کے احاطے میں مذہبی تہوار منانے پر لگائی گئی پابندی پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ گنیش چترتھی جیسے مذہبی تہوار کئی دہائیوں سے اسکولوں میں منائے جاتے رہے ہیں ۔ ان کے طابق بہت سارے تعلیمی ادارے صاحب خیر احباب کی طرف سے ایسی روایات کو ذہن میں رکھ کر عطیہ میں دی گئی زمینوں پر تعمیر ہوئے ہیں ۔
سرینواس کالج کی وجہ سے آلودگی: 'دیشا' میٹنگ میں سرینواس میڈیکل کالج کی طرف سے ہو رہی مبینہ ماحولیاتی آلودگی کے تعلق سے شکایات پر توجہ مبذول کروائی گئی ۔ موڈبیدری کے ایم ایل اے اماناتھ کوٹیان نے بتایا کہ مذکورہ میڈیکل کالج کی طرف سے گندا اور آلودہ پانی مقامی لوگوں کی طرف سے مقدس مانی جانے والی نندنی ندی میں چھوڑا جا رہا ہے ۔ بارہا شکایت کرنے کے باوجود کالج انتظامیہ نے ابھی تک اس کے تدارک کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے ۔ اس لئے کالج انتظامیہ کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جانی چاہیے۔
جبکہ نامزد رکن راجیو شیٹی نے کہا کہ سرینواس کالج کے علاوہ چیلیار میں بلدیہ کا جو کچرا مرکز (ایس ٹی پی) ہے اس میں سے گندا پانی نندنی ندی میں چھوڑا جا رہا ہے ۔ گزشتہ 2016 سے بارہا احتجاج کرنے کے علاوہ پانچ ڈپٹی کمشنروں کو اس تعلق سے یاد داشتیں پیش کی جا چکی ہیں لیکن اب تک کوئی اقدام نہیں کیا گیا ۔
شہر میں ملیٹری ٹینکر کی نمائش :اس میٹنگ کے دوران رکن پارلیمان برجیش چوتا نے بتایا کہ جلد ہی پونے سے ملیٹری کا 70 ٹن وزنی ٹی 55 ٹینکر منگلور شہر پہنچے گا جہاں اس کی نمائش رکھی جائے گی ۔ سرکیوٹ ہاوس کے قریب واقع 'وار میموریل' کے سامنے اس کی نمائش رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس ٹینکر کو پونے سے منگلورو لانے کے لئے 1.5 لاکھ روپے خرچ ہو رہے ہیں ۔