ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مہادیوپورہ میں ووٹر لسٹ فراڈ نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا، جعلی پتے اور دوہری رجسٹریشن بے نقاب — پریانک کھرگے

مہادیوپورہ میں ووٹر لسٹ فراڈ نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا، جعلی پتے اور دوہری رجسٹریشن بے نقاب — پریانک کھرگے

Wed, 13 Aug 2025 19:28:19    S O News

بنگلورو، 13 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک کے وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایت راج اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، پریانک کھرگے نے الزام عائد کیا ہے کہ بنگلور سنٹرل پارلیمانی حلقے کے انتخابات میں مہادیوپورہ اسمبلی حلقے میں ووٹر لسٹ میں غیر معمولی اضافہ اور جعلی اندراجات کے ذریعے نتائج پر براہِ راست اثر ڈالا گیا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس امیدوار نے پورے پارلیمانی حلقے میں 6,26,208 ووٹ حاصل کیے، جبکہ بی جے پی امیدوار کو 1,58,915 ووٹ ملے۔ جیت کا فرق صرف 32,707 ووٹ تھا، لیکن مہادیوپورہ میں بی جے پی امیدوار کو 1,46,046 ووٹوں کی برتری ملی، جو نتیجے کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

کھرگے کے مطابق 2023 کے اسمبلی انتخابات میں حلقے میں ووٹروں کی تعداد 6,07,755 تھی، لیکن 2024 کی لوک سبھا ووٹر لسٹ میں یہ تعداد بڑھ کر 6,59,826 ہوگئی — یعنی صرف ایک سال میں 52,575 ووٹروں کا اضافہ، اوسطاً روزانہ 160 نئے ووٹر۔ انہوں نے کہا کہ یہ اضافہ انتخابی کمیشن کے ضوابط کے منافی ہے اور اس پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔

وزیر موصوف نے دعویٰ کیا کہ ووٹر لسٹ میں دوہری رجسٹریشن، جعلی پتوں پر ووٹروں کا اندراج، فرضی دستاویزات جیسے شادی کے کارڈ اور جعلی آدھار کارڈ کا استعمال، اور ایک ہی پتے پر غیر معمولی تعداد میں ووٹروں کا اندراج جیسے سنگین بے قاعدگیوں کے شواہد ملے ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک شخص کو مختلف تاریخوں میں درخواست دے کر چار ووٹر کارڈ جاری کیے گئے، جبکہ ایک خاتون کا نام ایک ہی بوتھ میں پانچ بار درج ہوا، ہر بار الگ ای پی آئی سی نمبر کے ساتھ۔

اعداد و شمار کے مطابق 11,965 ووٹرز نے ایک سے زیادہ جگہوں پر رجسٹریشن کرایا، 40,009 ووٹروں کے پتے جعلی ہیں، اور فارم 6 کے غلط استعمال سے 33,692 ووٹ لسٹ میں شامل کیے گئے۔ کئی گھروں کے پتہ خانے میں صرف ’’صفر‘‘ یا ’’نقطہ‘‘ درج کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کے قانونی مشیر پوننّا نے الزام لگایا کہ انتخابی کمیشن اس دھاندلی کی تحقیقات میں پس و پیش سے کام لے رہا ہے اور آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق کمیشن کے اس رویے سے انتخابی شفافیت پر سنجیدہ سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔


Share: