بھٹکل 14 اگست (ایس او نیوز): پرائیویٹ کار کے ذریعے مبینہ طور پر مسافروں کو کرایہ پر مینگلورو ایئرپورٹ لے جانے کے معاملے میں بھٹکل کے سرپن کٹہ نیشنل ہائی وے پر ٹیکسی ڈرائیوروں کی جانب سے کار کو روک کر اسے آر ٹی او کے حوالے کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعے کے بعد بھٹکل ٹیکسی ڈرائیورس اینڈ اونرس ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے آر ٹی او رویندرا کو جائے وقوع پر بلایا، انہیں میمورنڈم پیش کیا اور پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعے مسافروں اور سیاحوں کو کرایہ پر لے جانے کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
بھٹکل آمد کے موقع پر ہوناور آر ٹی او رویندرا کو یادداشت پیش کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے وفد نے کہا کہ پرائیویٹ یا سفید نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو کمرشیل بنیادوں پر مسافروں کو لے جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے باوجود بعض گاڑی مالکان مبینہ طور پر سیاحوں اور دیگر مسافروں سے کرایہ وصول کرکے انہیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا رہے ہیں، جس سے قانونی پرمٹ کے تحت ٹیکسی سروس چلانے والے ڈرائیوروں اور مالکان کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ واقعے میں بھٹکل کے دو مسافروں کو پرائیویٹ کار کے ذریعے مینگلورو ایئرپورٹ لے جایا جارہا تھا۔ سرپن کٹہ کے قریب ٹیکسی ڈرائیوروں نے مبینہ طور پر گاڑی کو روک لیا اور معاملہ آر ٹی او کے علم میں لایا گیا، جس کے بعد کار کو بھٹکل پولیس تھانے لے جایا گیا۔ نتیجتاً ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کو اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے دوسری ٹیکسی کا انتظام کرنا پڑا۔
ٹیکسی یونین کے ذمہ داران نے آر ٹی او کو یاد دلایا کہ اُڈپی نمبر پلیٹ والی یہ کار اس سے قبل بھی مسافروں کو لے جانے کے دوران پکڑی گئی تھی اور اب دوسری بار پکڑی گئی ہے، اس لیے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔ ڈرائیوروں نے بتایا کہ نجی گاڑیوں کے ذریعے کرایہ کی یہ سروس روکنے کے لیے اس سے قبل بھی ڈپٹی کمشنر کو یادداشت پیش کی جاچکی ہے، جس کے بعد محکمہ ٹرانسپورٹ کو ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان کے مطابق بھٹکل میں بعض نجی گاڑیوں کے خلاف کارروائی بھی کی گئی تھی، تاہم حالیہ عرصے میں کچھ گاڑی مالکان نے مبینہ طور پر دوبارہ یہ سرگرمی شروع کردی ہے۔
وفد نے آر ٹی او کو بتایا کہ اگر پرائیویٹ گاڑیوں پر مسافروں کو کرایہ پر لے جانے کی اجازت دی جاتی ہے تو پھر ٹیکسی ڈرائیور یلو نمبر پلیٹ کے لیے زائد ٹیکس ادا کرکے قانونی طور پر مسافروں کو سروس کیسے فراہم کریں؟ انہوں نے کہا کہ سفید نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو ٹیکسی کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو شفاف اور قانونی طریقے سے اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔
اس موقع پر آر ٹی او افسر رویندرا نے ایسوسی ایشن کے وفد کو یقین دلایا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسافروں کو کرایہ پر لے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن کے صدر گنیش دیواڈیگا، نائب صدر محمد مشتاق، جنرل سکریٹری جگدیش نائک، فیصل سمیت دیگر ذمہ داران وفد میں شامل تھے۔
بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے ذمہ داران نے بھٹکل اور اطراف کے عوام سے اپیل کی کہ اگر انہیں ٹیکسی کے ذریعے سفر کرنا ہو تو قانونی طور پر رجسٹرڈ یلو بورڈ والی کمرشل ٹیکسی ہی استعمال کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ سفید بورڈ والی نجی گاڑی میں کرایہ دے کر سفر کرنے کی صورت میں گاڑی کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں مسافروں کو متبادل ٹیکسی کا انتظام کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے باعث خصوصاً ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کی فلائٹ چھوٹنے کا بھی خدشہ رہتا ہے۔