ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جھارکھنڈ: اسمبلی مارچ کے دوران طلبہ پر پولس کی جانب سے واٹر کینن، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے مظاہرین

جھارکھنڈ: اسمبلی مارچ کے دوران طلبہ پر پولس کی جانب سے واٹر کینن، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے مظاہرین

Mon, 10 Aug 2026 14:41:29    S O News
جھارکھنڈ: اسمبلی مارچ کے دوران طلبہ پر پولس کی جانب سے واٹر کینن، بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھے مظاہرین

رانچی، 10 اگست (ایس او نیوز): جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں کے مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے خلاف جاری طلبہ کا احتجاج پیر کو اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ہزاروں امیدواروں نے رانچی میں اسمبلی کی جانب مارچ کیا۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج بھی کیا، تاہم مظاہرین متعدد بیریکیڈ توڑتے ہوئے اسمبلی کے قریب پہنچ گئے۔

یہ احتجاج JPSC-JSSC Reforms Manch کی قیادت میں ہو رہا ہے اور پیر کو اس کا 17واں دن تھا۔ بڑی تعداد میں طلبہ ریاست کے مختلف اضلاع سے ٹرینوں، بسوں اور دیگر گاڑیوں کے ذریعے رانچی پہنچے۔ صبح تقریباً ساڑھے 10 بجے پرانے اسمبلی کمپلیکس کے قریب سے مارچ شروع ہوا، جس کا مقصد نئے اسمبلی کمپلیکس تک پہنچنا تھا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں ترنگے اور مطالبات سے متعلق پلے کارڈز تھے۔

مظاہرین نے راستے میں پولیس کی جانب سے لگائی گئی کئی سطح کی بیریکیڈنگ کو توڑ دیا۔ IANS کے مطابق طلبہ نے کم از کم آٹھ بیریکیڈنگ ہٹا دی اور بعض مقامات پر مرکزی سڑک کے بجائے کچے اور پہاڑی راستوں سے اسمبلی کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔ پولیس نے انہیں روکنے کے لیے واٹر کینن چلایا، لیکن کئی مظاہرین پیچھے ہٹنے کے بجائے پانی کی تیز دھار کے سامنے نعرے لگاتے اور بعض مقامات پر رقص کرتے نظر آئے۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے دیویندر ناتھ مہتو گزشتہ نو دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ طبیعت خراب ہونے کے باوجود وہ ایمبولینس کے ذریعے اسمبلی مارچ میں شریک ہوئے۔ جگن ناتھ پور مندر کے قریب انہیں روک دیا گیا، جس کے بعد حامیوں نے انہیں ایک عارضی پالکی میں کندھوں پر اٹھا کر آگے پہنچایا۔ رپورٹس کے مطابق نو روزہ بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن تقریباً 10.5 کلوگرام کم ہوچکا ہے۔

طلبہ کا بنیادی مطالبہ JPSC اور JSSC کے مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور CBI انکوائری ہے۔ مظاہرین خاص طور پر JSSC-CGL 2024 امتحان کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ بھرتی امتحانات میں پیپر لیک، بدعنوانی اور دیگر بے ضابطگیوں نے لاکھوں امیدواروں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔

حکومت اور طلبہ کے درمیان تعطل برقرار:
یہ مارچ حکومت اور طلبہ نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے چھ دور ناکام رہنے کے بعد نکالا گیا۔ اتوار کو ہونے والے چھٹے دور کے مذاکرات میں بھی کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے طلبہ کے تقریباً 98 فیصد مطالبات تسلیم کرلیے ہیں، لیکن طلبہ اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے 13 اہم مطالبات میں سے صرف تین امتحانات منسوخ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے 14ویں JPSC Combined Civil Services Preliminary Examination کے علاوہ 2023 اور 2025 کے بیک لاگ امتحانات منسوخ کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ تاہم حکومت نے JSSC-CGL 2024 کو منسوخ کرنے سے انکار کیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ امتحان عدالتی نگرانی میں منعقد ہوا تھا اور اس کے ذریعے منتخب امیدوار پہلے ہی ملازمتوں پر تعینات ہوچکے ہیں۔

طلبہ کا اصرار ہے کہ صرف امتحانات منسوخ کرنا کافی نہیں بلکہ پورے معاملے کی CBI تحقیقات ضروری ہیں۔ اسی مطالبے پر حکومت اور احتجاجی طلبہ کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار ہے۔

JPSC کے تین ارکان کے استعفے:
تنازع کے دوران جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) کے تین ارکان کے استعفوں نے بھی معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ طلبہ تنظیمیں اسے امتحانی نظام میں موجود مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اپنی شکایات کی اہمیت کے طور پر پیش کر رہی ہیں، جبکہ حکومت نے مختلف سطحوں پر تحقیقات اور اصلاحات کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ED نے بھی تحقیقات شروع کردیں:
دریں اثنا، آج ہی ایک اہم پیش رفت میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) نے جھارکھنڈ میں بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات شروع کردی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ED نے اس سلسلے میں Enforcement Case Information Report (ECIR) درج کی ہے اور معاملے کی مالی پہلوؤں سے بھی جانچ کی جائے گی۔

یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ طلبہ مسلسل CBI تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ریاستی حکومت نے اپنی سطح پر CID اور دیگر تحقیقات کی بات کی ہے۔

رانچی میں سخت حفاظتی انتظامات:
طلبہ کے اسمبلی مارچ کے پیش نظر رانچی میں بڑے پیمانے پر پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔ اسمبلی کے اطراف امتناعی احکامات نافذ کیے گئے اور تقریباً چار کلومیٹر طویل مارچ کے راستے پر متعدد مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی۔ طلبہ کو رانچی پہنچنے سے روکنے کے لیے ضلعی سرحدوں، اہم سڑکوں اور ہائی ویز پر گاڑیوں کی جانچ بھی کی گئی۔ شہر کے بیشتر اسکول بھی پیر کو بند رہے۔

بی جے پی رہنماؤں کو بھی حراست میں لیا گیا:
طلبہ کے احتجاج کے ساتھ ہی جھارکھنڈ میں سیاسی محاذ بھی گرم ہوگیا۔ بی جے پی کے تقریباً 50 رہنماؤں، جن میں 21 ارکان اسمبلی بھی شامل تھے، کو پیر کو وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی سرکاری رہائش گاہ کے باہر احتجاج کے دوران پولیس نے حراست میں لیا۔ ان میں اپوزیشن لیڈر بابولال مرانڈی اور ریاستی بی جے پی صدر آدتیہ پرکاش ساہو بھی شامل تھے۔ بی جے پی نے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ اور CBI تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی جانب سے گزشتہ روز طلبہ کو یقین دلایا گیا تھا کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تاہم طلبہ حکومت کی یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہوئے اور اسمبلی مارچ پر قائم رہے۔

فی الحال صورت حال یہ ہے کہ طلبہ اسمبلی کے اطراف پہنچ چکے ہیں اور پولیس انہیں مزید آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔ واٹر کینن اور لاٹھی چارج کے باوجود احتجاج ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے، جبکہ CBI تحقیقات اور JSSC-CGL 2024 کی منسوخی پر تعطل برقرار ہے۔


Share: