ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / سماجی تعمیر اور فکری بیداری میں اساتذہ کا کردار فیصلہ کن: سدارامیا

سماجی تعمیر اور فکری بیداری میں اساتذہ کا کردار فیصلہ کن: سدارامیا

Sun, 01 Mar 2026 10:50:57    S O News
سماجی تعمیر اور فکری بیداری میں اساتذہ کا کردار فیصلہ کن: سدارامیا

بنگلورو ، یکم مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا ہے کہ عام انسان کو غیر معمولی شخصیت میں ڈھالنے کی حقیقی طاقت صرف اساتذہ کے پاس ہوتی ہے، اس لیے اساتذہ کو سماج کی تعمیر میں اپنی ذمہ داری کو پوری سنجیدگی سے نبھانا چاہیے۔ پیالیس گراؤنڈ میں پرائمری اساتذہ یونین کے اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ آزادی کے وقت ملک میں شرحِ خواندگی تقریباً 12 سے 15 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 74 فیصد تک پہنچ چکی ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ کیا موجودہ تعلیم سماج کے مسائل کا مؤثر حل پیش کر رہی ہے یا نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اساتذہ کی کوتاہی نہیں بلکہ سماجی نظام کے اثرات ہیں جن کی وجہ سے مطلوبہ تبدیلیاں پوری طرح ممکن نہیں ہو سکیں۔

سدارامیا نے کہا کہ آئین ہر فرد کی ہمہ جہت ترقی کے لیے سائنسی اور فکری تعلیم پر زور دیتا ہے۔ سماج میں ذات پات، توہمات اور فرسودہ رسم و رواج کی جڑیں مضبوط ہیں، جنہیں ختم کرنے کے لیے باشعور اور سائنسی سوچ پر مبنی تعلیم ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک معاشرے میں موجود عدم مساوات کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک سبھی طبقات کو مرکزی دھارے میں لانا ممکن نہیں۔ سماجی و معاشی آزادی ہر فرد کا حق ہے اور اس کے حصول میں اساتذہ کا کردار کلیدی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری کو دیانت داری سے ادا کریں اور طلبہ کو سوال کرنے، دلیل دینے اور حقائق کو پرکھنے کی تربیت دیں۔ انہوں نے کہا کہ بچوں میں فکری و سائنسی شعور پیدا کر کے ہی ایک مضبوط اور خوشحال سماج کی تشکیل ممکن ہے۔انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب عقل، ہمدردی اور مہارت کا امتزاج ہوتا ہے تو حقیقی ترقی جنم لیتی ہے۔ سدارامیا نے اعتراف کیا کہ وہ آج جس مقام پر ہیں، اس میں ان کے اساتذہ کا بڑا کردار ہے اور وہ پرائمری و ہائی اسکول کے اساتذہ کا خصوصی احترام کرتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کرائی کہ اساتذہ کے مختلف مطالبات کو مرحلہ وار پورا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بطور وزیر خزانہ اپنے دور میں پانچ برسوں میں ایک لاکھ اساتذہ کی تقرری کی گئی تھی اور چھٹے و ساتویں تنخواہ کمیشن کو نافذ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) کے معاملے پر کابینہ میں غور و خوض کے بعد فیصلہ لیا جائے گا، جبکہ ترقیوں اور تنخواہوں سے متعلق مسائل کے حل کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے طرزِ عمل کو مثالی بنائیں۔

تقریب میں نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار، وزیر تعلیم مدھو بنگارپا، قانون ساز کونسل کے اراکین اور دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ اگر تمام بچوں کو فکری اور سائنسی بنیادوں پر معیاری تعلیم دی جائے تو ایک محفوظ، خوبصورت اور ترقی یافتہ سماج اور ملک کی تعمیر ممکن ہے، اور یہی اساتذہ کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔


Share: