منگلورو ،31 / مئی (ایس او نیوز) ضلع دکشن کنڑا اور اڈپی کے نئے پولیس سپرنٹنڈنٹس کی حیثیت سے ڈاکٹر کے ارون اور ہری رام شنکر نے بالترتیب کل اپنے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ۔
خیال رہے کہ اس علاقے میں بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ جرائم پر روک لگانے اور شرپسند عناصر پر لگام کسنے کے مقصد سے ریاستی حکومت نے جن آئی پی ایس افسران کا تبادلہ کیا تھا ان میں یہ دونوں شامل ہیں ۔ ڈاکٹر کے ارون کو ضلع اڈپی کے ایس پی کے عہدے سے ہٹا کر دکشن کنڑا ایس پی کا منصب دیا گیا ہے جبکہ ہری رام شنکر کو اسٹیٹ انٹلی جنس، پولیس ہیڈ کوارٹرس سے تبادلہ کرتے ہوئے اڈپی ضلع کا ایس پی بنایا گیا ہے ۔
دونوں اضلاع کے پولیس نئے پولیس سپرنٹنڈنٹس نے عہدہ سنبھالنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے، مجرموں اور بالخصوص مورل پولیسنگ میں شامل افراد سمیت فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا تیقن دیا ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جرائم اور مجرموں سے متعلق کسی بھی معلومات کو براہ راست ان کے ساتھ شیئر کریں ۔
انہوں نے بتایا کہ سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس پر بے بنیاد خبریں اور افواہیں پھیلانے ، گایوں کے ٹرانسپورٹ اور ذبح کرنے، منشیات فروشی، جوئے بازی اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کٹھن کارروائی کی جائے گی ۔
دکشن کنڑا کے ایس پی ڈآکٹر ارون نے عوام سے کہا ہے کہ جرائم سے متعلق کسی قسم کی معلومات ہو تو فون نمبر 2220503-9480805301/0824 پر انہیں فراہم کی جائے ۔
جبکہ ماضی میں کنداپور کے اے ایس پی اور منگلورو کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس [لا اینڈ آرڈر] رہ چکے ہری رام شنکر نے اڈپی ضلع کے نئے ایس پی کے بطور عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں اور مجرموں سے متعلقہ معلومات انہیں فون نمبر 9480805401/0820-2534777 پر دی جائے ۔
انہوں نے کہا کہ گنگولی اور بیندور سمیت علاقے کے حساس مقامات پولیس کی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے گا ۔ رات کے وقت پیٹرولنگ بڑھا دی جائے گی ۔ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر توجہ دی جائے گی ۔ ضلع کے ہر پولیس اسٹیشن میں دو پولیس افسران سوشیل میڈیا کی نگرانی کے لئے تعینات رہیں گے ۔ قابل اعتراض مواد نشر کرنے اور شیئر کرنے والوں کے خلاف کڑی کارروائی ہوگی ۔ منشیات کی لت کے خلاف پورے ضلع میں مہم چلائی جائے گی ۔ ساتھ عوام میں بیداری لانے کے پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے ۔