بنگلورو، 13 اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) دکشن کنڑا ضلع سمیت ساحلی علاقوں میں لال پتھر (ریڈ اسٹون) کی کانکنی کو قانونی اور منظم بنانے کے لیے نئے قواعد تیار کیے جا رہے ہیں، جنہیں جلد نافذ کیا جائے گا۔ اس مقصد کے تحت آج بنگلورو کے وِدھان سودھا میں اسپیکر یو ٹی قادر اور ضلع انچارج وزیر دنیش گنڈو راؤ کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزیر مالگزاری کرشنا بائیرے گوڑا، وزیر کانکنی و معدنیات ایس ایس ملیکارجن، وزیر دیہی ترقی پریانک کھرگے، اُتر کنڑا کے ضلع انچارج وزیر منکال ویدیا، اُڈپی کی ضلع انچارج وزیر لکشمی ہبّالکر، ساحلی اضلاع کے ارکان اسمبلی اور اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں محکمۂ کانکنی و معدنیات کے افسران نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تجارتی مقاصد کے بجائے مقامی ضروریات کے لیے لال پتھر نکالنے والے افراد کو آسان اور باضابطہ اجازت نامے فراہم کرنے کے لیے قواعد میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اس کے لیے SOP (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، تاکہ لائسنس کے اجراء میں تاخیر نہ ہو۔
وزیر دنیش گنڈو راؤ نے زور دیا کہ ضلع میں تعمیراتی اور رہائشی منصوبوں کے لیے لال پتھر کی اشد ضرورت ہے، اس لیے اجازت ناموں کا عمل تیز اور سہل بنایا جائے تاکہ درخواست دہندگان کو ایک ماہ کے اندر لائسنس فراہم ہو سکے۔
اسپیکر یو ٹی قادر نے بھی ہدایت دی کہ تعمیراتی کاموں اور زمین کی ہمواری سے متعلق موجودہ مسائل جلد حل کیے جائیں، رائلٹی میں کمی کی جائے اور قواعد کے مطابق کانکنی کی اجازت فراہم کی جائے تاکہ مقامی عوام کی ضروریات بروقت پوری ہو سکیں۔