ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / جنتر منتر احتجاج: نہا بورا حراست میں، صحافیوں کے ساتھ پولیس کے سلوک پر سخت اعتراضات

جنتر منتر احتجاج: نہا بورا حراست میں، صحافیوں کے ساتھ پولیس کے سلوک پر سخت اعتراضات

Sun, 11 Oct 2026 17:45:49    S O News
جنتر منتر احتجاج: نہا بورا حراست میں، صحافیوں کے ساتھ پولیس کے سلوک پر سخت اعتراضات

نئی دہلی  ، 11/اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی)سی جے پی کے سورَو داس نے اتوار کو دہلی پولیس کی جانب سے صحافیوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک پر سخت تنقید کی۔انہوں نےالزام لگایا کہ دہلی ایئرپورٹ پر طیارے میں ان کے ساتھ دپکے اور رنکا کو بغیر کسی قانونی نوٹس یا دستاویزات کے حراست میں لے لیا گیا اور انہیں اغوا کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ تینوں کو الگ الگ گاڑیوں میں مختلف مقامات پر لے جایا گیا اور کسی کو ان کی موجودگی کی جگہ کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اپنے وکلا سے مشورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

سی جے پی احتجاج لائیو: سی جے پی کے اشوتوش رنکا نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ جب ابھیجیت دپکے کو ان کی دادی کے انتقال کی خبر دی گئی تو دہلی پولیس نے انہیں اپنے اہلِ خانہ سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی۔

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نہا بورا کو دہلی پولیس نے کناٹ پلیس سے حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی جب ان کی اپیل پر مظاہرین آر کے آشرم میں جمع ہو رہے تھے۔’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، نہا بورا اپنے حامیوں کے ایک گروپ کے ساتھ کناٹ پلیس کی جانب مارچ کر رہی تھیں، اسی دوران پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ یہ کارروائی قومی دارالحکومت دہلی میں جاری احتجاجی مظاہروں کے درمیان ہوئی۔

سنیچر کی کارروائی کے بعد کیجریوال کا وزیر اعظم مودی پر طنزعام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سربراہ اروند کیجریوال نے دہلی میں ہفتے کے روز ہونے والے احتجاج کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ سننا پڑے۔ک یجریوال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’کل کے ہنگامے کے بعد ایسا نہ ہو کہ گیانیش کمار کے ساتھ مودی جی کو بھی استعفیٰ دینا پڑ جائے۔‘‘

دہلی پولیس نے سپریم کورٹ کے قریب نصب بیریکیڈز ہٹا دیے ہیں۔ یہ کارروائی اتوار کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج سے متعلق سماعت کے دوران عدالت کی ہدایت کے بعد کی گئی۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے قومی ترجمان اشوتوش رانکا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کو دہراتے ہوئے انہیں ’’غدار‘‘ قرار دیا ہے۔

رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’گیانیش کمار غدار ہیں۔ انہیں استعفیٰ دینا ہی ہوگا۔ ایسے غداروں کو عہدے سے ہٹانے کے لیے میں اپنی پوری زندگی جیل میں گزارنے کو تیار ہوں۔‘‘

بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، سخت حفاظتی پابندیوں اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے الزامات کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی سی جے پی کی تحریک ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ پارٹی کے اہم لیڈروں کی رہائی کے باوجود سیاسی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور شریک کنوینرس سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی عدالت نے ایک سال تک امن و امان برقرار رکھنے کی شرط پر رہا کردیا۔ پارٹی نے اپنے  لیڈروں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ہے، جبکہ رانکا نے دوپہر۲؍ بجے پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب،دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’ہندوستان کیلئے باعثِ شرمندگی‘‘ قرار دیا۔

حکومت کی کارروائی پر اپوزیشن رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ صورتحال کے بارے میں چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھنے کے بعد انڈیا اتحاد کے رہنما پیر کو ان سے ملاقات کریں گے۔ راہل گاندھی نے حکومت پر جمہوریت کو دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے عہد کیا کہ وزیر اعظم مودی اور دیگر سینئر عہدیداروں کو جواب دہ بنایا جائے گا۔

دہلی پولیس نے سنیچرکو احتجاج سے متعلق واقعات کے سلسلے میں۲۰؍ سے زائد ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ان میں سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور پولیس اہلکاروں پر حملے جیسے الزامات شامل ہیں۔

احتجاج کا دائرہ دارالحکومت سے باہر بھی پھیل رہا ہے۔ سی جے پی کے تنظیمی انچارج اجنکیا شندے نے ممبئی میں شیواجی پارک کے قریب ٹی جنکشن پر شام۴؍ بجے مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں، طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر لکھنؤ میں مشترکہ احتجاج کی اپیل کی ہے۔سی جے پی کا اصرار ہے کہ انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں، بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کئے جانے اور انتخابی عمل میں ہیرا پھیری کے الزامات کے خلاف اس کی تحریک جاری رہے گی۔

اب سب کی نظریں پارٹی کی پریس کانفرنس، مختلف شہروں میں ہونے والے تازہ مظاہروں اور چیف جسٹس آف انڈیا سے ملاقات کیلئے انڈیا اتحاد کے مجوزہ اقدام پر مرکوز ہیں۔

یوٹیوبر دھرو راٹھی نے حراست سے رہائی کے بعد اپنے پہلے ردعمل میں حکام پر الزام عائد کیا کہ انہیں زبردستی ان کے گھر سے اٹھایا گیا، تقریباً۲۲؍ سے۲۳؍ گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا اور اس دوران انہیں اپنے فون اور وکیل تک رسائی نہیں دی گئی۔ایکس پر جاری کردہ ویڈیو پیغام میں راٹھی نے اپنا پاسپورٹ دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ  ہندوستانی شہری ہیں۔ انہوں نے ان دعوؤں کو بھی مسترد کیا کہ ان کے پاس کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہے۔

دہلی میٹرو کی بندش اور لوگوں کو حراست میں لئے جانے کے معاملے پر سپریم کورٹ میں عرضیوں کی سماعت جاری ہے۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ چند وکلا پُرامن طریقے سے پیدل جا رہے تھے، لیکن بغیر بیج لگائے پولیس اہلکاروں نے انہیں دھکیل کر ایک وین میں بٹھا دیا۔سینئر ایڈوکیٹ شعیب عالم نے کہا کہ لوگوں کو ٹرینوں میں حراست میں لیا جا رہا ہے، مسافروں کو ٹرینوں سے اتارا جا رہا ہے اور مظاہرے کی جگہ تک پہنچنے سے روکنے کیلئے لوگوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’لوگوں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے، لیکن ان کے احتجاج کے حق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ سابق وزرائے اعلیٰ سمیت ۶؍ سے۷؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘‘

جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ ان معاملات کی سماعت کر رہی ہے۔ بنچ نے کہا کہ وہ عرضی گزاروں کے دلائل سنے گی اور اس کے بعد حکم جاری کرے گی۔جسٹس باگچی نے کہا کہ عدالت متعلقہ حکام سے منگل تک میٹرو اسٹیشنوں کی بندش کے بارے میں رپورٹ طلب کر سکتی ہے۔ اس دوران سینئر ایڈوکیٹ مینکا گرو سوامی نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست نے ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتِ حال پیدا کر دی ہے؟مینکا گرو سوامی نے کہا کہ شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کو معطل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسا آخری بار ۵۰؍سال قبل ایمرجنسی کے دوران ہوا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈران ابھیجیت دپکے، سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو اتوار کی صبح حراست سے رہا کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق، یوٹیوبر دھروو راٹھی کو بھی سنیچرکوگروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا، جنہیں رات گئے رہا کر دیا گیا۔ ابھیجیت دپکے اور ان کے دو ساتھیوں کو آج دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن میں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے ان کی رہائی کا حکم دیا گیا۔ تینوں کو دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر طیارہ اترنے کے کچھ ہی دیر بعد اسی طیارے کے اندر سے حراست میں لیا گیا تھا، جبکہ دھروو راٹھی کو گروگرام میں واقع ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا تھا۔

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے اتوار کو ایک بار پھر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا منصوبہ ہے کہ وہ جنتر منتر واپس پہنچ کر اپنے مطالبات کی تکمیل تک مظاہرہ جاری رکھے گی۔ علاقے میں سخت حفاظتی انتظامات برقرار رہیں گے۔ تقریباً۳۰؍ ہزار پولیس اہلکاروں اور نیم فوجی دستوں کی۲۰۰؍ کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ پارلیمنٹ اسٹریٹ اور جنتر منتر کے اطراف بیریکیڈز کے ذریعے آمدورفت پر پابندیاں بھی برقرار رہیں گی۔ بتا دیں کہ سنیچر کو احتجاج کی اپیل کے بعد قومی دارالحکومت میں بڑے پیمانے پر حفاظتی پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، شام۷؍ بجے تک تقریباً۶؍ ہزار افراد کو حراست میں لیا جا چکا تھا، جبکہ مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے سے روک دیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے سنیچر کو ہونے والے احتجاج سے قبل اور اس کے دوران ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو حراست میں لئے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس پر ہندوستان نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کی تشویش ’’غلط فہمی پر مبنی ہے اور ہندوستان کے داخلی معاملات میں بلاجواز مداخلت کے مترادف ہے۔ ‘‘ہندوستان نے اپنے جمہوری نظام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا آئین شہریوں کو پُرامن اجتماع کا حق فراہم کرتا ہے۔ حکومت نے جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے ملک کے مستحکم اداروں، آزاد عدلیہ اور آزاد ذرائع ابلاغ کا بھی حوالہ دیا۔ حکومت نے مزید کہا کہ دیگر جمہوری ممالک کی طرح ہندوستان میں بھی ان آزادیوں کے استعمال پر امن و امان برقرار رکھنے کیلئے معقول پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ حکام قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور شہریوں کو اپنی شکایات کے ازالے کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہندوستان نے انسانی حقوق کے ادارے پر زور دیا کہ وہ دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والے بڑے مظاہروں پر بھی اسی طرح توجہ دے۔ حکومت نے کہا کہ ایسے معاملات میں اس ادارے کا رویہ غیر جانب دارانہ اور یکساں ہونا چاہئے۔

سنیچر کی رات دہلی میٹرو کے تمام اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے دوبارہ کھول دیئے گئے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) نے سنیچر کو اعلان کیا کہ مسافر بغیر کسی پابندی کے اسٹیشنوں میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کارپوریشن نے یہ بھی تصدیق کی کہ متاثرہ اسٹیشنوں پر میٹرو لائن تبدیل کرنے کی سہولت بحال کر دی گئی ہے، جس کے بعد مسافر معمول کے مطابق ایک لائن سے دوسری لائن پر جا سکتے ہیں۔ تاہم، احتجاج کے نئے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی ایک بار پھر پابندیاں عائد کئےجانے کا امکان ہے۔ مظاہرے کے پیش نظر حفاظتی انتظامات کے تحت ۱۰؍اکتوبر کو دہلی آنے والی کئی ٹرینوں کی خدمات بھی معطل کر دی گئی تھیں۔ 


Share: