ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل میں بھی مسلمانوں کے ووٹ حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا معاملہ؛ لیکن حکام کی طرف سے درخواستیں مسترد

بھٹکل میں بھی مسلمانوں کے ووٹ حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا معاملہ؛ لیکن حکام کی طرف سے درخواستیں مسترد

Mon, 05 Oct 2026 22:30:55    S O News
بھٹکل میں بھی مسلمانوں کے ووٹ حذف کرانے کی مبینہ کوشش کا معاملہ؛ لیکن حکام کی طرف سے درخواستیں مسترد

بھٹکل 5/ اکتوبر (ایس او نیوز): ملک بھر میں خصوصی نظرثانیٔ انتخابی فہرست (SIR) کے دوران فارم نمبر 7 کے مبینہ غلط استعمال اور اہل ووٹروں کے نام حذف کرانے کی کوششوں پر جاری بحث کے درمیان مسلم ووٹروں کی بڑی تعداد والے بھٹکل میں بھی اسی نوعیت کے معاملات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بھٹکل کے کئی پولنگ بوتھ سمیت مرڈیشور کے بوتھ پر بھی اہل ووٹروں، خصوصاً مسلمانوں کے نام ووٹر فہرست سے حذف کرنے کے لیے فارم نمبر 7 پُر کرکے بوتھ لیول افسران سے رجوع کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق مرڈیشور میں ایک سیاسی پارٹی کے عہدیدار نے اپنے ہی نام سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 245 افراد کے ووٹ حذف کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم، SIR حکام نے مذکورہ درخواست کو تسلیم نہیں کیا، کیونکہ درخواست گزار نے فارم نمبر 7 کے ساتھ مطلوبہ دستاویزات فراہم نہیں کیے تھے۔

اسی طرح کئی گمنام افراد کی جانب سے بھٹکل کے دیگر پولنگ بوتھوں کے انتخابی عہدیداروں سے بھی سینکڑوں فارم نمبر 7 کی درخواستوں کے ساتھ رابطہ کیے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ شبہ ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر ایک ہی شخص نے اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم بھٹکل کے انتخابی اہلکاروں نے ایسی درخواستوں کو رجسٹر کرنے کی اجازت نہیں دی۔

اس معاملے کے بعد بھٹکل میں یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ ایسی کوشش کرنے والے کون لوگ تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔ مقامی سطح پر یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ آیا ملک کے دیگر علاقوں اور کرناٹک کے مختلف اضلاع میں سامنے آنے والے واقعات کی طرح یہاں بھی اقلیتی اور مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کی کوشش کسی سیاسی مقصد کے تحت کی گئی تھی یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔

ایک اور معاملہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ SIR کے دوران ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے پر ایک ووٹر کو نوٹس جاری کیے جانے کے بعد، حکام کے سامنے اس ووٹر کی سماعت سے قبل ہی بھٹکل کا ایک سیاستدان اس کا نام ووٹر فہرست سے حذف کرانے کے لیے فارم نمبر 7 کی درخواست لے کر پہنچ گیا تھا۔

واضح رہے کہ فارم نمبر 7 کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے میں کرناٹک کے دیگر حصوں میں بھی شکایات اور پولیس مقدمات سامنے آچکے ہیں۔ بیدر کے بھالکی میں 3,244 ووٹروں کے ناموں کو غلط طور پر منتقل یا غیر حاضر ظاہر کرنے کی شکایت، بیلگاوی میں 198 اقلیتی ووٹروں کے نام حذف کرانے کی مبینہ کوشش اور میسور میں مسلم ووٹروں کے نام حذف کرانے سے متعلق FIR درج ہوئی ہے۔ بنگلورو کے ملیشورم میں بھی 778 ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے فارم نمبر 7 کی درخواستیں جمع کیے جانے کے الزام میں FIR درج کی گئی ہے۔ دکشن کنڑ کے بیلتھنگڈی اسمبلی حلقے میں 16 پولنگ بوتھوں سے 279 فارم نمبر 7 کی درخواستیں دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جن میں اُجیرے میں 82 درخواستیں مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے سے متعلق بتائی گئی ہیں۔ ان معاملات کی پولیس اور انتخابی حکام کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔

گجرات میں بھی SIR کے دوران فارم نمبر 7 کا بڑے پیمانے پر استعمال سامنے آیا تھا۔ وہاں تقریباً 14 لاکھ فارم نمبر 7 کی درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں جانچ کے بعد تقریباً 1.8 لاکھ درخواستوں کو درست قرار دیا گیا تھا۔

فارم نمبر 7 کی درخواستوں کے بارے میں بھٹکل کے اسسٹنٹ الیکشن آفیسر اور اسسٹنٹ کمشنر مہیش نے بتایا کہ درخواستیں وصول کرتے وقت متعلقہ دستاویزات کی جانچ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ فارم نمبر 7 کی درخواستیں کتنی تعداد میں موصول ہوئی تھیں، انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر درج کی گئی درخواستوں کے بارے میں ہی معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں۔

اسسٹنٹ الیکشن آفیسر کے مطابق بھٹکل تعلقہ میں فارم نمبر 7 سے متعلق مجموعی طور پر 87 درخواستیں سرکاری طور پر وصول کرکے درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے 84 درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں، جبکہ باقی تین درخواستوں پر سماعت کے بعد کارروائی کی جائے گی۔

بتاتے چلیں کہ 27 اکتوبر کو شائع ہونے والی ووٹر فہرست کے سلسلے میں فارم نمبر 7 کے تحت درخواست جمع کرانے کی آخری تاریخ 23 ستمبر تھی۔ البتہ اس کے بعد شائع ہونے والی فہرست میں نام شامل ہونے والے افراد کے خلاف بھی فارم نمبر 7 کے ذریعے اعتراض داخل کرنے کی سہولت فی الحال دستیاب ہے۔

فارم نمبر 7 ووٹر فہرست میں کسی نام کے اندراج پر اعتراض یا کسی ووٹر کا نام فہرست سے حذف کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ متعلقہ اسمبلی حلقے کی موجودہ ووٹر فہرست میں درج کوئی بھی ووٹر یہ درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ درخواست میں یہ بتانا ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص ووٹر فہرست میں نام درج رکھنے کا اہل کیوں نہیں ہے، مثلاً اس کی موت ہوچکی ہو، وہ نابالغ ہو، مستقل طور پر منتقل ہوچکا ہو، کسی دوسرے مقام کی ووٹر فہرست میں پہلے ہی درج ہو، بھارتی شہری نہ ہو یا کوئی دوسری قابل قبول وجہ موجود ہو۔

یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت انتخابی فہرست کی تیاری، نظرثانی یا تصحیح، یا کسی نام کے اندراج یا اخراج سے متعلق جان بوجھ کر غلط تحریری بیان یا اعلامیہ دینا جرم ہے۔ اس جرم پر ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں کی سزا ہوسکتی ہے۔

Click here for report in English


Share: