ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بنگلورو: عیدالاضحی کے پیش نظر مسلم محاذ کی ڈی کے شیوکمار اور ڈاکٹر پرمیشور سے ملاقات

بنگلورو: عیدالاضحی کے پیش نظر مسلم محاذ کی ڈی کے شیوکمار اور ڈاکٹر پرمیشور سے ملاقات

Tue, 03 Jun 2025 21:22:12    S O News
بنگلورو: عیدالاضحی کے پیش نظر مسلم محاذ کی ڈی کے شیوکمار اور ڈاکٹر پرمیشور سے ملاقات

بینگلور 3/جون (ایس او نیوز) عیدالاضحی کے پیش نظر کرناٹکا مسلم متحدہ محاذ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں، اور ریاست میں امن و امان کی بحالی کو  یقینی بنانے اور شرپسندوں کو کسی بھی حال میں قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، بے قصور مسلم نوجوانوں کی جیلوں میں طویل قید، اور کانگریس کے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد میں تاخیر جیسے سنگین مسائل کو بھی اجاگر کیا۔

بالمشافہ ملاقاتوں میں وفد نے کئی اہم نکات دونوں وزرا کے گوش گزار کیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ 2023 کے اسمبلی انتخابات میں دلت، آدی واسی، کسان، اقلیتیں اور پسماندہ طبقات نے کانگریس کو اقتدار دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اور وہ امید کرتے تھے کہ اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس حکومت ان طبقات کی فلاح و بہبود کو ترجیح دے گی۔

وفد نے کہا: “ہم نے ریاست بھر میں نفرت، استحصال اور آئینی حقوق کی پامالی کے خلاف مہمات چلائیں، لیکن دو سال گزرنے کے باوجود بھی عوام انہیں مسائل سے دوچار ہیں۔”

mahaz-met-hm-karnataka

وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور سے گفتگو کے دوران، منگلورو اور اطراف کے علاقوں میں پیش آرہے ایک کے بعد ایک  قتل کے واقعات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے زور دیا کہ ریاستی حکومت شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے۔

وفد نے کہا، "فرقہ وارانہ نفرت کے بڑھتے رجحانات ریاستی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو تحفظ فراہم کرے۔"

اس موقع پر وزیر داخلہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ ریاستی حکومت پہلے ہی فرقہ وارانہ جرائم کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دے چکی ہے، اور اس کے لیے ضروری تیاریوں بشمول یونیفارم فراہم کرنے کا عمل جاری ہے۔ تاہم، وفد نے زور دیا کہ اس فورس میں صرف سیکولر سوچ اور آئینی قدروں سے وفاداری رکھنے والے افراد کو شامل کیا جائے۔ وفد نے واضح کیا کہ “محض ڈھانچے قائم کرنا کافی نہیں، امن و انصاف کی بقا کے لیے نظریاتی وابستگی، انسانی ہمدردی اور شفاف کارروائی ضروری ہے”۔

وفد نے ایک مفصل یادداشت بھی پیش کی، جس میں ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا جو سالوں سے جیلوں میں بند ہیں اور جن کے مقدمات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ وفد نے توجہ دلائی کہ "جمہوریت میں بغیر جرم کے سزا ناقابل قبول ہے، اور یہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔"

سوشل میڈیا اور عوامی پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز تقاریر اور جھوٹی خبروں کے ذریعے سماج میں انتشار پھیلانے والے افراد کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی کی بھی زور دار اپیل کی گئی۔

ڈی کے شیوکمار سے علیحدہ ملاقات میں وفد نے گاؤ کشی قانون کے غلط استعمال پر شدید اعتراض کیا، اور کہا کہ اس قانون کی آڑ میں بے گناہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ عید الاضحی کے تناظر میں ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و امان قائم رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

وفد نے گلبرگہ، بلگاوی، میسور، چنگیری، ناگمنگلا اور منگلورو میں جاری فرقہ وارانہ کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی، اور سوال اٹھایا کہ جب کانگریس حکومت برسر اقتدار ہے، تب بھی نفرت پھیلانے والے عناصر کھلے عام متحرک کیوں ہیں؟ وفد نے کہا کہ "یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ حکومت کی موجودگی کے باوجود شدت پسند عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔"

وفد نے ریاستی اسمبلی کے 136 ارکانِ اسمبلی کی خاموشی اور عوامی مسائل سے ان کی بے رُخی پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ “اگر مسلمانوں سے متعلق مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو مستقبل میں فرقہ پرست طاقتوں کی واپسی کی ذمہ داری خود کانگریس پر عائد ہوگی۔”

دونوں وزرا نے وفد کی گزارشات کو بغور سنا اور ریاست میں امن، ہم آہنگی اور اقلیتوں کے تحفظ کے اپنے عزم کو دہرایا۔

محاذ کے کنوینر مسعود عبد القادر ، جوائنٹ کنوینر مولانا محمد یوسف کنی، تنویر احمد شریف، منصور احمد قریشی، اعجاز احمد، طلحہ سدی باپا ودیگر کئی اداروں کے ذمہ داران موجود تھے۔


Share: