ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل گرنے کی اطلاع، دھماکے کے بعد دھواں

بغداد میں امریکی سفارتخانے کے ہیلی پیڈ پر میزائل گرنے کی اطلاع، دھماکے کے بعد دھواں

Sun, 15 Mar 2026 11:29:14    S O News

بغداد ، 15/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فوجی تصادم تیسرے ہفتہ میں داخل ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ تازہ اپڈیٹ عراق کی راجدھانی بغداد سے آ رہی ہے، جہاں ہفتہ (14 مارچ 2026) کو امریکی سفارت خانہ کے کمپلیکس میں ایک ہیلی پیڈ پر میزائل سے بڑا حملہ ہوا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سفارت خانہ کے کمپلیکس کے اوپر سیاہ دھوئیں کا بڑا بادل اٹھتا ہوا نظر آیا۔

رپورٹ کے مطابق جب بغداد میں امریکی سفارت خانہ کی دھوئیں سے بھری تصاویر سامنے آ رہی تھیں، اسی دوران متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے فجیرہ پورٹ (بندرگاہ) کے قریب ایک آئل فیسلٹی میں بھی آگ لگ گئی۔ حکام نے بتایا کہ آئل فیسلٹی میں یہ آگ ایران کے ایک ڈرون کو روکنے کے دوران اس کے ملبہ کے گرنے سے لگی۔ یہ واقعات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پورے خطہ میں فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ایک دن قبل، 13 مارچ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے خارگ جزیرے پر واقع ان فوجی اڈوں کو تباہ کر دیا ہے جو ایران کی تیل برآمدات کا اہم مرکز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر اپنے حملے جاری رکھتا ہے تو اگلا نشانہ ایران کا آئل انفراسٹرکچر ہوگا۔ تاہم ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے دھمکی دی تھی کہ ایسے حملوں کا جواب اس سے بھی زیادہ زور دار انداز میں دیا جائے گا۔

اس دوران امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ ایک امریکی افسر کے حوالہ سے ایسوسی ایٹیڈ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ تقریباً 2,500 اضافی میرین فوجیوں اور ایک ایمفیبیئس اسالٹ جہاز کو علاقے میں بھیجا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایران نے اسرائیل اور خلیج کے کئی عرب ممالک کی طرف میزائل اور ڈرون حملے جاری رکھے ہیں۔ اس کے ساتھ اس نے حکمت عملی کے ساتھ انتہائی اہم آبنائے ہرمز کو بھی مؤثر طور پر بند کر دیا ہے۔ عالمی تیل سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔


Share: