ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / اعلیٰ تعلیم کے مسائل پر ودھان سودھا میں اہم اجلاس، اساتذہ کی ترقی اور خالی آسامیوں کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

اعلیٰ تعلیم کے مسائل پر ودھان سودھا میں اہم اجلاس، اساتذہ کی ترقی اور خالی آسامیوں کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت

Tue, 19 Aug 2025 12:25:53    S O News

بنگلورو، 19 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) ریاست میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے متعلق مختلف مسائل پر غور کے لیے آج ودھان سودھا میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت قانون ساز کونسل کے چیئرمین بسوراج ہوراٹی نے کی۔ اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے وزیر ڈاکٹر ایم سی سدھاکر، اساتذہ و گریجویٹ حلقہ کے اراکین اسمبلی کے علاوہ محکمۂ اعلیٰ تعلیم کے پرنسپل سیکریٹری، کمشنر، ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ افسران شریک رہے۔

اجلاس کے دوران اسسٹنٹ پروفیسرز اور ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی ترقی میں تاخیر پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ چیئرمین نے کہا کہ ’’اہلیت حاصل کرنے کے گیارہ ماہ بعد بھی انٹرویو کے باوجود ترقی نہ دینا افسوسناک ہے۔‘‘ انہوں نے ہدایت دی کہ ایک ہفتے کے اندر ترقی کی فہرست جاری کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے 23 دسمبر 2023 تک آر سی اور او سی کورسز کو لازمی نہ رکھنے کی رعایت دی تھی، اس کے باوجود کئی اساتذہ کو ترقی سے محروم رکھنا سنگین مسئلہ ہے۔ اس معاملے پر محکمہ کے پرنسپل سیکریٹری کو فوری کارروائی کی ہدایت دی گئی۔

اجلاس میں کالج ایجوکیشن کمشنریٹ کے عملے پر بدعنوانی اور بدسلوکی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ چیئرمین نے اس پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے حکم دیا کہ معاملے کی اندرونی تحقیقات کی جائے اور قصوروار اہلکاروں کو فوراً برطرف کیا جائے۔

اس کے علاوہ، گرانٹ اِن ایڈ فرسٹ گریڈ کالجوں میں تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کرنے پر زور دیا گیا۔ سرکاری کالجوں میں وزیٹنگ لیکچررز کی تقرری، تنخواہوں اور دیگر مسائل کو بھی مقررہ وقت کے اندر حل کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی طرح دھارواڑ کی کرناٹک یونیورسٹی کے ملازمین کو ریٹائرمنٹ کے بعد مکمل پنشن فراہم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

اجلاس میں شریک اراکین نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اساتذہ اور تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل کا حل نکل سکے۔


Share: