ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / بیلگاوی میں عقیدت کی آڑ میں اجتماعی خودکشی کی کوشش ناکام، حکام کی بروقت مداخلت سے 21 افراد کی جان بچ گئی

بیلگاوی میں عقیدت کی آڑ میں اجتماعی خودکشی کی کوشش ناکام، حکام کی بروقت مداخلت سے 21 افراد کی جان بچ گئی

Wed, 27 Aug 2025 12:55:31    S O News

بیلگاوی، 27/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی): کرناٹک کے ضلع بیلگاوی کے اتھنی تعلقہ کے اننت پور گاؤں میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ہریانہ کے متنازعہ مذہبی پیشوا سنت رامپال کے پیروکاروں نے اجتماعی خودکشی کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ تاہم انتظامیہ کی بروقت مداخلت سے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا اور 21 افراد کی جان بچ گئی۔

رپورٹ کے مطابق اننت پور گاؤں کے ایرکر خاندان سے تعلق رکھنے والے تُکارام، ساوتری، رمیش، ویشناوی سمیت 10 سے زائد افراد نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ ان کے ساتھ ساتھ اتر پردیش کے 11 افراد بھی شامل تھے۔ سبھی افراد نے مبینہ طور پر 8 ستمبر کو اجتماعی طور پر جان دینے کا ارادہ کیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ تمام لوگ سنت رامپال کے پراوچن اور اس کی کتابوں سے متاثر ہو کر اس انتہائی اقدام کے لیے تیار ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ سنت رامپال فی الحال 2014 کے فسادات کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے اور اس وقت جیل میں ہے۔ اس کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ ’’پرماتما خود آئے گا اور ہماری جان لے جائے گا‘‘۔ اسی اندھی عقیدت کے نتیجے میں یہ 21 افراد موت کو گلے لگانے کی تیاری کر بیٹھے تھے۔

ادھر جیسے ہی انتظامیہ کو اس خطرناک منصوبے کی اطلاع ملی، چککوڈی کے اسسٹنٹ کمشنر سبھاش سمپاگاوی فوری طور پر پولیس ٹیم کے ساتھ گاؤں پہنچے اور عوام سے بات چیت کی۔ مقامی مٹھادھیشوں اور پولیس اہلکاروں نے بھی ان عقیدت مندوں کو سمجھانے کی کوشش کی اور حقیقت سے آگاہ کیا۔ حکام کی مسلسل سمجھانے بجھانے کے بعد یہ 21 افراد اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔

اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر سبھاش سمپاگاوی نے واضح انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ 21ویں صدی میں بھی اندھے عقائد پر اس طرح کے اقدامات سماج کے لیے خطرناک ہیں۔ بھکتی کا اصل مطلب انسان کو شعور و آگاہی دینا ہے، نہ کہ خدا کے نام پر اپنی جان قربان کرنا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے گمراہ کن اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مبصرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی سنگین مثال ہے کہ کس طرح اندھی عقیدت اور گمراہ کن تعلیمات انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ انتظامیہ کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سانحہ کو ٹلنے سے بچا لیا۔


Share: