منگلورو 3 / جون (ایس او نیوز) ریاستی وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورا نے بتایا کہ ریاست کی ساحلی پٹی اور ملناڈ علاقے میں فرقہ وارانہ فسادات کے بڑھتے ہوئے خطرے پر روک لگانے کے لیے حکومت نے ایک اہم اور فعال قدم اٹھایا ہے اور اسپیشل ٹاسک فورس (ایس ٹی ایف) کی تشکیل کو منظوری دی ہے۔
منگلورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشورا نے حکومت کے فیصلے کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس ٹاسک فورس کا مقصد اضلاع دکشن کنڑ، اڈوپی اور شیموگہ جیسے فرقہ وارانہ طور پر حساس علاقے میں امن و سلامتی کا ماحول بحال کرنا اور اسے تقویت دینا ہے ۔ انہوں نے بار بار فرقہ وارانہ لحاظ سے جذبات اور ماحول بھڑک اٹھنے کے خطرناک رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے اس خطے کے سماجی تانے بانے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
نو تشکیل شدہ ایس ٹی ایف کے بارے میں ڈاکٹر پرمیشورا نے خلاصہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خصوصی مقصد کے لئے وقف اکائی ہو گی، جو سماج دشمن اور فرقہ پرست عناصر کے خلاف تیز اور فیصلہ کن کارروائی کو یقینی بنانے کے لئے ضلع سپرنٹنڈنٹس آف پولیس اور پولیس کمشنروں کی براہ راست نگرانی میں کام کرے گی ۔
انہوں نے کہاانٹلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر سمجھا جاتا ہے کہ چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ جیسے علاقوں سے نکسلی عناصر کرناٹک، کیرالہ اور تمل ناڈو کے سرحدی علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں اور یہاں دوبارہ منظم ہو رہے ہیں ۔ اس پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے موجودہ اینٹی نکسل فورس (ANF) سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کے ایک حصے کو دوسری زمرے کے لئے مختص کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس طرح
اے این ایف میں منظور شدہ 667 پوسٹوں میں سے 248 اہلکاروں کو اب تشکیل پانے والی خصوصی ایس ٹی ایف میں بھیج دیا جائے گا، جبکہ 376 اہلکار اگلے تین سال تک اے این ایف آپریشنز کے تحت کام کرتی رہیں گے ۔
ایس ٹی ایف کا تشکیلی ڈھانچہ :
• 1 ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی پی)
• 1 ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (سول)
• 1 اسسٹنٹ کمانڈنٹ
• 4 پولیس انسپکٹرز / ریزرو پولیس انسپکٹرز
• 16 ایس آئی، پی ایس آئی، آر ایس آئی
• 60 کانسٹیبلس ہیڈ کانسٹیبلس
• 150 کمشنرس آف پولیس، اسسٹنٹ کمشنرس آف پولیس (سول اینڈ آرمڈ کانسٹیبلس)
• 15 پیروکار (سپورٹ اسٹاف)
ایس ٹی ایف کی تعیناتی کا منصوبہ:ایس ٹی ایف کو تین کمپنیوں میں تقسیم کیا جائے گا، جن میں سے ہر ایک کو بالترتیب اڈپی، شیموگا اور دکشین کنڑا میں تعینات کیا جائے گا ۔ منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے اعتبار سے منگلورو شہر وسط میں رہنے کی وجہ سے ایس ٹی ایف کا آپریشنل ہیڈکوارٹر یہاں قائم ہونے کی توقع ہے۔
ایس ٹی ایف کے اختیارات اور فرائض :
• نفرت انگیز تقریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے لیے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا کی کڑی نگرانی کرنا ۔
• انٹلی جنس(خفیہ معلومات) اکٹھا کرنے کے نظام کو مضبوط بنانا اور تکنیکی نگرانی کے سیل قائم کرنا ۔
• فرقہ وارانہ خطرات کی شناخت اور اسے بے اثر کرنے کے لیے انسانی انٹلی جنس ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کے سلسلے کو بڑھاوا دینا ۔
• تناؤ کو کم کرنے کے لیے انسانی معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کو نافذ کرنا ۔
• سماج دشمن عناصر کے سر اٹھانے پر نظر رکھنا اور حفاظتی اقدامات کرنا ۔
• فرقہ وارانہ بدامنی کے موقع پر زونل آئی جی پی کی ہدایت پر تیزی سے تعیناتی کے لئے فورس فراہم کرنا ۔
ایک سینئر پولیس افسر نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اشتعال انگیزیوں کو روکنے اور قانون کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکومت نے ساحلی علاقے پر توجہ مرکوز کرنے والی ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی ہے ۔ منگلورو میں اپنے ہیڈ کوارٹر کے ساتھ قائم ہونے والی اور دکشن کنڑ، اُڈپی اور شیموگا کا احاطہ کرنے والی یہ فورس، فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ایک رکاوٹی دیوار کے طور پر کام کرے گی ۔"
حکومت کےاس اقدام نے مختلف حلقوں کی توجہ مبذول کروائی ہے ۔ بہت سے لوگ اسپیشل ٹاسک فورس کے قیام کو کرناٹک کے سب سے زیادہ غیر مستحکم علاقوں میں سے دو خطوں میں امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے ریاستی حکومت کی بروقت مداخلت کے طور پر دیکھتے ہیں ۔