ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو پولیس کی کارروائی: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے والے 5 افراد گرفتار

منگلورو پولیس کی کارروائی: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے والے 5 افراد گرفتار

Thu, 05 Jun 2025 17:32:06    S O News
منگلورو پولیس کی کارروائی: سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزپیغامات پوسٹ کرنے والے 5 افراد گرفتار

منگلورو ،5 / جون (ایس او نیوز) سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جا رہی فرقہ وارانہ منافرت کے خلاف ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے منگلورو سٹی پولیس نے شہر اور پورے جنوبی کنڑا ضلع میں سماجی ہم آہنگی کو بگاڑنے کے مقصد سے اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے ۔

 معلوم ہوا ہے کہ انٹلی جنس کی جانب سے موصولہ اطلاعات پر تیزی سے کام کرتے ہوئے، سٹی پولیس کمشنریٹ نے اشتعال انگیز پوسٹس کے ذمہ داروں کی شناخت اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی تفتیشی ٹیمیں تشکیل دی تھیں ۔ یہ تمام گرفتاریاں بھارتیہ نیائے سنہیتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت درج مقدمات سے جڑی ہیں، جن کی تحقیقات ابھی جاری ہے ۔ 
    
جن لوگوں کے خلاف اقدام کیا گیا ہے ان میں پہلا معاملہ اڈپی ضلع کے ہیجاماڈی کے رہنے والے  23 سالہ محمد اسلم ابو بکر صدیق  کا ہے جسے  ٹیم_جوکرزز_ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے اشتعال انگیز مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔

کہا جاتا ہے کہ اسلم اس اکاؤنٹ کو سعودی عرب سے چلا رہا تھا، اور شواہد کی بنیاد پر  منگلورو ساؤتھ پولیس نے BNS کی دفعہ 192 اور 353(2) کا استعمال کرتے ہوئے جرم نمبر 88/2025 کے تحت مقدمہ درج کیا اور اس کے خلاف ایک لُک آؤٹ سرکلر (ایل او سی) جاری کیا گیا، جس کے بعد اسے حراست میں لے لیا گیا۔

    دوسرے معاملے میں سورتکل میں رہنے والے  چیتن (20 سال) ولد ناگراجو بنگیرا اور ہلے انگڈی کے رہنے والے نتین آڈاپا (23 سال) کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ  ایک مسلمان کے نام سے رجسٹرڈ سم کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے ٹیم_کرنا_سورتکل نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ چلا رہے تھے ۔

مبینہ طور پر چینپّا عرف مٹھو سورتکل نامی صارف کے ذریعے اشتعال انگیز مواد پوسٹ کرنے کے لیے  اس اکاؤنٹ کا استعمال کیا گیا تھا ۔

منگلورو نارتھ پولیس اسٹیشن میں  بی این ایس کی دفعہ 196(1) اور 353(2) کے تحت درج ایف آئی آر  کی بنیاد پر دونوں مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور فی الحال تفتیش کار ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

  تیسرے واقعے میں منگلورو فرنگی پیٹے  کے رہائشی ریاض ابراہیم (30 سال) کو سعودی عربیہ میں رہتے ہوئے انسٹاگرام ہینڈل Beary_royal_nawab کے ذریعے فرقہ وارانہ پیغامات پھیلانے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ۔

اس کے خلاف برکے پولیس اسٹیشن اور مُلکی پولیس اسٹیشن میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں -

اس کے علاوہ ایک لُک آؤٹ سرکلر بھی جاری کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی گرفتاری عمل میں آئی ۔ 
    
چوتھا معاملہ منگلورو کے کسبا بینگرے کلور میں مقیم جمال ذاکر (21 سال) کا ہے جسس نے مبینہ طور پر Troll_bengare_ro_makka کے نام سے ایک انسٹاگرام پیج چلایا اور اس کے ذریعے اشتعال انگیز پوسٹس شیئر کیں ۔

بی این ایس کی دفعہ 353(1)(c) اور 353(2)  تحت ملکی پولیس اسٹیشن میں اس کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا جس پر کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا ۔ 
    
پانچویں معاملے میں، کولاویل، ہلے انگڈی کے رہنے والے گرو پرساد کو گرو ڈی پرساد ہالے انگڈی نامی اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے فیس بک پر اشتعال انگیز پیغامات پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔

اس کے خلاف مُلکی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر میں بی این ایس کی دفعہ 196(1)(A)، 353( )79، اور 56 کے تحت الزامات شامل ہیں ۔ 
    
منگلورو کے سی ای این کرائم پولیس اسٹیشن میں تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں کے ذریعہ پانچوں معاملات کی جانچ کی جارہی ہے۔

اس کریک ڈاؤن کی نگرانی منگلورو کے پولیس کمشنر شری سدھیر کمار ریڈی آئی پی ایس کر رہے ہیں اور ڈپٹی کمشنر آف پولیس شری سدھارتھ گوئل، آئی پی ایس (لا اینڈ آرڈر اینڈ کرائم) اور روی شنکر (ایڈمنسٹریشن اینڈ انٹلی جنس) رہنمائی کر رہے ہیں ۔

حالیہ کارروائیوں میں شامل سٹی پولیس کمشنر نے کہا کہ " یہ کریک ڈاؤن ایک سخت پیغام دیتا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے فرقہ وارانہ انتشار کو ہوا دینے کی کوششوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔"
    
انہوں نے بتایا کہ "ہم نے شہر کے امن کو خراب کرنے والی ایسی حرکتوں سے باز آنے کی درخواست کی اور یہاں تک کہ ہم نے بار بار تنبیہ کی ، لیکن اس کے باوجود اس طرح  کی پوسٹس جاری رہیں ۔ اس لئے ہم نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں اور صرف چار دن کی کوشش کے بعد ہم نے قصورواروں کی شناخت کر لی ۔"


Share: