منگلورو 5 / جون (ایس او نیوز) کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ صدر اور ایم ایل سی منجو ناتھ بھنڈاری نے مجرمانہ پس منظر رکھنے والوں کو 'ہندو اکٹیوسٹ' کا نام دینے کے خلاف سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہا انہیں ہندو ایکٹیویسٹ نہ کہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجرنگ دل یا کسی اور دائیں بازو کی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ہندو اکٹیوسٹ نہیں بلکہ ان اداروں یا تنظیموں کا اکٹیوسٹ کہنا چاہیے۔
دکشن کنڑا پولیس کی طرف سے 36 افراد کو ضلع بدر کرنے کی جو کارروائی جو شروع کی گئی ہے اس پس منظر میں بولتے ہوئے بھنڈاری نے کہا کہ جو لوگ نفرت پھیلاتے ہیں انہیں اپنے مذہب کے نام کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ جن لوگوں کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور اس بنیاد پر وہ ضلع بدری کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں ہندو لیڈروں کی شناخت دی جا رہی ہے۔
منجو ناتھ بھنڈاری نے کہا کہ جن لوگوں نے عبد الرحمٰن کا قتل کیا ہے وہ لوگ اس سے پہلے عبد الرحمٰن سے فائدہ اٹھایا تھا ۔ نام نہاد ہندو لیڈروں کو اس غداری کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ یہ ہندوازم کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ۔ کیا اس قسم کی غداری کے لئے ان کی رضا مندی حاصل ہے ۔ انہیں عوام کو بتانا ہوگا کہ ایسی حرکت ہندو ازم، دستور اور قانون کے خلاف ہیں۔
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ بی جے پی ترقی کے محاذ پر کانگریس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اس لئے وہ لوگوں کا دماغ میں فرقہ پرستی کے بیج بوتے ہوئے پچھلے دروازے کی سیاست کر رہی ہے ۔ اسی سیاست کی وجہ سے ان لوگوں کا برین واش ہوا تھا جنہوں نے عبدالرحمٰن کا قتل کیا، اس لئے حملہ آوروں سے زیادہ سزا ان لوگوں کو ملنی چاہیے جو اس قسم کی برین واشنگ کر رہے ہیں ۔