منگلورو 5 / جون (ایس او نیوز) کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی کے نائب صدر اور سابق وزیر بی رماناتھ رائے کہا کہ اگر دکشن کنڑا میں پائی جانے والی فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد پر قابو پانے کے لئے فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے گئے تو پھر آگے چل کر یہ ضلع دوسرا منی پور بن سکتا ہے ، جو کہ نسلی تشدد میں گھرا ہوا ہے۔
انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کے دوران میں کہا کہ فرقہ وارانہ تناو پر قابو پانے کے لئے ٹاسک فورس کی تشکیل کے تعلق سے کہا کہ یہ اس سمت میں ایک خوش آئند اقدام ہے، اور اسے تمام مذاہب کے لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے موثر انداز میں کام کرنا ہوگا ۔ امن و امان کی بحالی کے نام پر معصوم ہندووں کو ہراساں کرنے کے بی جے پی کے الزام کو درکنار کرتے ہوئے رماناتھ رائے نے کہا کہ "کون بے قصور ہے ، یہ عوام جانتے ہیں۔ اگر فرقہ وارانہ وارداتیں روکی نہیں گئیں تو منی پور اور بوسنیا جیسا نسلی تشدد شروع ہو سکتا ہے ۔ وہاں پر حالات کنٹرول کرنے کے لئے اقوام متحدہ کو باہر سے پولیس بھیجنی پڑی تھی کیونکہ مقامی پولیس وہاں تشدد پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی تھی ۔