بھٹکل، 3 اگست (ایس او نیوز): لندن سے گلاسگو جانے والی ایزی جیٹ کی ایک پرواز میں "اللہ اکبر" کا نعرہ لگاتے ہوئے بم دھماکے کی دھمکی دینے والے بھارتی نژاد شخص کی شناخت 41 سالہ ابھئے دیوداس نائک کے طور پر ہوئی ہے، جس کا تعلق کرناٹک کے ساحلی ضلع اُترکنڑا کے ہوناور تعلقہ سے بتایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ اتوار، 27 جولائی 2025 کو پیش آیا جب مذکورہ شخص لندن کے لیوٹن ایئرپورٹ سے گلاسگو کی پرواز پر سوار تھا۔
دوران پرواز مذہبی نعرے اور بم کی دھمکی سے خوف و ہراس
دورانِ پرواز ابھئے نائک نے اچانک "اللہ اکبر" کے نعرے لگاتے ہوئے خود کو مسلمان ظاہر کیا اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس بم موجود ہے۔ اس نے مزید "Death to America" اور "Kill Donald Trump" جیسے نعرے لگائے، جس سے مسافروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ ہنگامے کے مناظر مسافروں نے اپنے موبائل پر ریکارڈ کر لیے، جن کی ویڈیوز بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
ایمرجنسی لینڈنگ اور گرفتاری
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایزی جیٹ طیارے کو فوری طور پر اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کرنی پڑی، جہاں پہنچتے ہی اسکاٹ لینڈ پولیس نے ابھئے نائک کو گرفتار کر لیا۔ اس پر برطانیہ کے Air Navigation Order کے تحت ہوائی جہاز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور عملے پر حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ تاہم، پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس پر دہشت گردی کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ عدالت نے ملزم کو عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے اور اس کی ذہنی صحت کی جانچ کا عمل جاری ہے۔
ذاتی پس منظر: ہوٹلنگ، آئی ٹی اور پھر برطانیہ
ابھئے نائک کا تعلق ہوناور سے ہے، جو بھٹکل کے قریب واقع ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ اپنے والد کے ساتھ بنگلورو میں ہوٹل بزنس میں سرگرم تھا، بعد ازاں آئی ٹی سیکٹر میں ملازمت اختیار کی۔ بہتر مواقع کی تلاش میں وہ برطانیہ منتقل ہوا، جہاں وہ اب اسکاٹ لینڈ میں ایک انجینئر کے طور پر کام کر رہا تھا اور بیڈفورڈشائر میں مقیم تھا۔ اس کے دو بھائی بیرونِ ملک ڈاکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کا پاسپورٹ بنگلورو سے جاری ہوا ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ لندن پہنچنے سے پہلے دہلی سے روانہ ہوا تھا یا بنگلورو سے۔
سوشل میڈیا کا ردعمل: "مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش؟"
واقعے کی ویڈیوز اور رپورٹس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے کو ملا ہے۔ کئی صحافیوں اور صارفین نے اس واقعے کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی منظم سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک غیر مسلم شخص کا خود کو مسلمان ظاہر کر کے بم دھماکے کی دھمکی دینا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہوسکتا ہے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔ ساتھ ہی ’گودی میڈیا‘ کی اس معاملے پر خاموشی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کی بہادری اور فوری کارروائی
وائرل ویڈیوز میں صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پرواز میں موجود دو مسافروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابھئے نائک کو قابو میں کیا اور زمین پر لٹا کر روکنے میں کامیاب رہے، جس کے بعد طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے گلاسگو روانہ ہوا اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔