ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ووٹوں کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت کے ملازمین؟ ممتا بنرجی پہنچیں سپریم کورٹ؛ آج سماعت متوقع

ووٹوں کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت کے ملازمین؟ ممتا بنرجی پہنچیں سپریم کورٹ؛ آج سماعت متوقع

Sat, 02 May 2026 07:20:26    S O News
ووٹوں کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت کے ملازمین؟ ممتا بنرجی پہنچیں سپریم کورٹ؛ آج سماعت متوقع

نئی دہلی/کولکاتا، 2 مئی (ایس او نیوز/ایجنسیز): اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو سپروائزری ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت کے خلاف مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی   الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ   پہنچ گئی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے کی سماعت آج، یعنی 2 مئی کو متوقع ہے۔

رپورٹوں کے مطابق مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس (TMC) نے یکم مئی کو سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا   کے اس حالیہ حکم کو چیلنج کیا ہے، جس کے تحت اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے دوران صرف مرکزی حکومت کے ملازمین کو سپروائزری ذمہ داریاں سونپنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس معاملے کی سماعت آج (2 مئی) کو متوقع ہونے کے باعث سیاسی حلقوں کی نظریں سپریم کورٹ پر مرکوز ہو گئی ہیں۔

تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکشن کمیشن نے حالیہ ہدایات میں ووٹوں کی گنتی کے عمل کو زیادہ “غیر جانبدار” بنانے کے لیے مرکزی ملازمین کی تعیناتی پر زور دیا ہے۔ تاہم ترنمول کانگریس نے اس فیصلے پر شدید اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے ریاستی انتظامیہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور انتخابی عمل میں غیر ضروری مرکزیت پیدا ہو رہی ہے۔

پارٹی کا کہنا ہے کہ ریاستی سرکاری افسران کو گنتی کے عمل سے الگ کرنا نہ صرف انتظامی طور پر پیچیدگیاں پیدا کرے گا بلکہ اس سے وفاقی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ترنمول کانگریس نے مؤقف اپنایا ہے کہ الیکشن کمیشن کا حکم آئینی توازن کے خلاف ہے اور اس سے ریاستی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کمیشن کے اس فیصلے پر فوری روک لگائی جائے یا اس میں ترمیم کی جائے تاکہ ریاستی اہلکاروں کو بھی مناسب نمائندگی مل سکے۔

بنگالی اور قومی میڈیا میں بازگشت
بنگالی میڈیا اور قومی نیوز پلیٹ فارمز نے اس پیش رفت کو نمایاں کوریج دیتے ہوئے اسے “ریاست بمقابلہ مرکز” کی نئی قانونی جنگ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ صرف ایک انتظامی حکم تک محدود نہیں بلکہ اس کے وسیع سیاسی اور آئینی اثرات ہو سکتے ہیں۔

انتخابات کے تناظر میں اہمیت
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کا عمل اپنے آخری مراحل میں ہے اور ووٹوں کی گنتی قریب ہے۔ ایسے میں گنتی کے طریقہ کار پر اٹھنے والے سوالات انتخابی شفافیت اور نتائج کی قبولیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

سیاسی ردعمل
ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے اس اقدام کو “جمہوری حقوق کے تحفظ” کی کوشش قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے اسے شفاف انتخابات کے لیے ضروری اقدام بتایا ہے۔

آئینی و قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اس معاملے میں ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے، خاص طور پر اس سوال پر کہ انتخابی عمل میں مرکز اور ریاست کے اختیارات کی حد کہاں تک ہے۔

سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت اس تنازع کے مستقبل کا تعین کرے گی، اور امکان ہے کہ عدالت انتخابی شفافیت اور وفاقی توازن کے حوالے سے اہم رہنما اصول وضع کرے۔ ملک بھر کی سیاسی جماعتیں اور مبصرین اس فیصلے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔


Share: