ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مودی کے دراندازی والے بیان پر کھرگے کا سخت ردعمل، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام

مودی کے دراندازی والے بیان پر کھرگے کا سخت ردعمل، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام

Mon, 22 Dec 2025 10:55:19    S O News
مودی کے دراندازی والے بیان پر کھرگے کا سخت ردعمل، اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا الزام

نئی دہلی ، 22/ دسمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے دراندازوں کے متعلق وزیر اعظم مودی کے دیے گئے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور آسام دونوں جگہ بی جے پی کی حکومت ہے، جسے وہ خود ڈبل انجن حکومت کہتے ہیں۔ ایسے میں اگر سیکورٹی نظام میں کوئی خامی ہے ہے تو اس کی ذمہ دار کون ہے ؟  کیا  اپوزیشن اس کے لئے ذمہ دارہے؟

 دراصل وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار (21 دسمبر) کو کانگریس کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کانگریس ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ وہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن کو آسام میں بسانے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘

آسام دورہ کے دوران وزیر اعظم مودی کے دیے گئے بیان پر ملکارجن کھرگے نے  ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرکز میں ان کی حکومت ہے اور آسام میں بھی ان کی حکومت ہے، جسے وہ ڈبل انجن حکومت کہتے ہیں۔ اگر وہ سیکورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اپوزیشن پارٹیوں پر کیسے الزام عائد کر سکتے ہیں؟‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جب حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو سارا الزام اپوزیشن پر ڈال دیتی ہے۔ میں اس طرح کے بیان کی سخت مذمت کرتا ہوں۔‘‘

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ملک مخالف ہیں، ہم نہیں۔ ہم ملک کے مفاد میں جو بھی اچھا ہوگا، وہ کریں گے لیکن دہشت گردوں، دراندازوں یا کسی اور کی حمایت نہیں کریں گے۔ وہ صرف دوسروں پر الزام تراشی کر رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں روکنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ اصل میں حکومت اپنی ناکامی  چھپانے کے لیے الزام تراشی کر رہی ہے۔

دوسری جانب کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے نے بنگلہ دیش میں ہجوم کے ہاتھوں دیپو چندر داس کے قتل کی سخت مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں اس واقعے کی مذمت کرتا ہوں۔ وہاں ہندوؤں کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور ہندوستانی حکومت کو بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔‘‘


Share: