کاروار 9 / جون (ایس او نیوز) مانسون کے موسم میں زمین اورچٹانیں کھسکنے سے متعلق جیالوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس کے مطابق ضلع اُتر کنڑا میں 439 مقامات ایسے ہیں جہاں پر یہ حادثے پیش آنے کے امکانات موجود ہیں ۔
ضلع کے اندر جہاں سے نیشنل ہائی وے گزر رہا ہے وہاں کُل 19 مقامات پر زمین کھسکنے کے واقعات رونما ہو سکتے ہیں ۔ اس رپورٹ کے مطابق ہلیال ایک ایسا تعلقہ ہے جہاں کی زمین مستحکم ہے اور یہ پورا تعلقہ زمین کھسکنے کے خطرات سے محفوظ ہے ۔ منڈگوڈ تعلقہ میں صرف ایک مقام پر اس قسم کے خطرے کا امکان ہے ۔
بھٹکل تعلقہ ساحلی پٹی پر ہونے اور نیشنل ہائی وے توسیع کے لئے پہاڑیوں کو کاٹنے کے باوجود یہاں صرف ایک ہی مقام کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پر حادثہ پیش آ سکتا ہے ۔ اس طرح بھٹکل کو بھی سیف ژون میں رکھا گیا ہے ۔ جبکہ ڈانڈیلی کو 13 مقامات پر حادثوں کے امکانات کے ساتھ کم خطرات والے علاقے میں رکھا گیا ہے ۔
ہوناور سب سے آگے : اس رپورٹ کی روشنی میں ضلع بھر میں زمین کھسکنے کے درپیش خطرات کا موازنہ کریں تو 92 خطرناک مقامات کے ساتھ ہوناور تعلقہ زمین کھسکنے کے امکانی حادثات میں سب سے آگے ہے ۔ بقیہ تعلقہ جات کا جائزہ لیں تو کاروار میں 34، انکولہ 39، کمٹہ 48، سرسی 59، یلاپور 38، سداپور 58 اور جوئیڈا میں 56 مقامات کو ممکنہ حادثات کے لئے نشان زد کیا گیا ہے ۔
جن تعلقہ جات میں زمین کھکسنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں ان میں سے انسانی آبادی والے علاقوں کی تعداد سروے رپورٹ کے مطابق جوئیڈا 3، ہوناور 7، بھٹکل 14، سداپور 16 بتائی گئی ہے ۔
ضلع انتظامیہ نے زمین کھسکنے کے واقعات پیش آنے سے قبل احتیاطی اقدام پر 208 اسامیوں کو اسپاٹر کے بطور تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان اسامیوں کو جیالوجیکل سروے آف انڈیا کی طرف سے دی گئی صلاح کے مطابق حادثوں کے موقع پر کیے جانے والے اقدامات کی تربیت دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ آئی آر بی کمپنی نے بھی نیشنل ہائی وے کے علاقے میں حادثوں کے امکان والے مقامات پر اسپاٹرس نامزد کیے ہیں ۔ ہر علاقے میں دن اور رات کے لئے دو اسپاٹرس ہونگے ۔ ان کا نام اور موبائل نمبر ضلع انتظامیہ کو دیا گیا ہے ۔ راحت رسانی اور حفاظتی انتظامات کے لئے درپیش ایکسکویٹر، لوڈر اور جے سی بی جیسی بھاری مشینیں، ٹیپّر جیسی موٹر گاڑیاں ہر وقت تیار رکھی جائیں گی اور ان کی فہرست ضلع انتظامیہ کو فراہم کی جائے گی ۔