ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کے مٹھلی میں پہاڑی کھسکنے کا خطرہ: 8 خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا نوٹس

بھٹکل کے مٹھلی میں پہاڑی کھسکنے کا خطرہ: 8 خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا نوٹس

Sat, 21 Jun 2025 16:53:54    S O News
بھٹکل کے مٹھلی میں پہاڑی کھسکنے کا خطرہ: 8 خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا نوٹس

بھٹکل،21 جون (ایس او نیوز): بھٹکل تعلقہ کے مٹھلی گرام پنچایت حدود میں پہاڑی کھسکنے کے خطرے کے پیشِ نظر، پہاڑی کنارے پر مقیم آٹھ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لئے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

یہ نوٹس مٹھلی پنچایت کی ترقیاتی افسر راجیشوری چنداور نے جاری کیا۔ قابلِ ذکر ہے کہ سال 2022 میں اسی علاقے میں پہاڑی چٹان کھسک کر مکان پر گرنےکے ایک واقعے میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد تحصیل انتظامیہ کی جانب سے زمین کھسکنے کے خدشے والے اس علاقہ اور اس کے آس پاس کے 16 گھروں کو پہلے ہی نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

بتایا گیا ہے کہ 16 جون کو بنگلور اور کاروار سے ماہر ارضیات (جیالوجسٹ) موقع پر پہنچے اور علاقے کا معائنہ کیا۔ جیو لوجیکل سروے آف انڈیا (GSI) کی رپورٹ کے مطابق، اس علاقے میں پہاڑی یا زمین کھسکنے کے قوی امکانات ہیں اور اسے رہائش کے لائق نہیں سمجھا جا سکتا۔ محکمہ موسمیات نے بھی آئندہ دنوں میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔

اس حوالے سے مٹھلی گرام پنچایت کی مانسون سے پہلے کی آفات سے بچاؤ تیاریوں کے اجلاس میں بحث کی گئی۔ عوامی تحفظ اور احتیاط کے طور پر راجیشوری چنداور، نوڈل افسر شروَن کمار، پنچایت صدر رجنی نائک اور ان کی ٹیم نے علاقے کے مکینوں سے اپیل کی کہ وہ بارش کے موسم کے اختتام تک محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

تاہم، اس نوٹس پر مقامی عوام نے شدید ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا: “ہر سال بارش کے موسم میں آپ آکر ہمیں یہاں سے منتقل ہونے کا نوٹس دے دیتے ہیں۔ مگر ہمیں بتایا نہیں جاتا کہ ہم کہاں جائیں؟ ہم نے لاکھوں روپے خرچ کرکے یہ گھر بنائے ہیں، اب ہم انہیں چھوڑ کر کہاں جائیں؟”

مقامی باشندوں نے حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ متبادل انتظام کیے بغیر اچانک ہمیں علاقہ خالی کرنے کو کہنا کہاں کا انصاف ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بارش سے پہلے ہی اس مسئلے پر اجلاس بلاکر مناسب متبادل فراہم کیا جانا چاہیے تھا۔

اس موقع پر پنچایت کے سابق صدر شیشگیری نائک، رکن لکشمی نائک، گرام ایڈمنسٹریٹو آفیسر شبانہ بانو اور گرام اسسٹنٹ منجو نائک موجود تھے۔


Share: