واشنگٹن/تہران ، 22/ جون (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں پہلے دور کی بات چیت ختم ہو چکی ہے۔ اس مذاکراتی عمل میں دونوں فریقوں کی جانب سے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس معاملے پر پاکستان اور قطر کی جانب سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس تعلق سے ایران کا پہلا رد عمل بھی سامنے آ گیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی کے باعث لبنان جنگ کے خاتمے کی سمت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران کے تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ منجمد کی گئی بعض اثاثہ جات بھی جاری کر دیے گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر تعمیر نو اور ترقیاتی منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ سب سے بڑا امتحان لبنان میں ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ ہے۔
پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق لیک لوسرن سمٹ مثبت اور تعمیری ماحول میں منعقد ہوئی۔ اس میں آئندہ تکنیکی مذاکرات کے لیے ایک نظام قائم کرنے سمیت کئی حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہیں۔ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی بنیاد پر تمام فریق ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر متفق ہوئے ہیں، جو ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔ مرکزی مذاکرات کار باقاعدگی سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے اور جوہری امور، پابندیوں اور مفاہمتی یادداشت کے مؤثر نفاذ کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل سے متعلق ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔
اعلیٰ سطحی کمیٹی نے 60 دنوں کے اندر حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے، جس سے مزید تکنیکی مذاکرات فوری طور پر شروع کرنے کی بنیاد تیار ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے اور کسی بھی واقعے یا غلط فہمی سے بچنے کے لیے مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف 5 میں بیان کردہ مدت کے لیے فریقین کے درمیان ایک مواصلاتی رابطہ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق تمام فریق لبنان میں فوجی کارروائیوں کو روکنے سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک ’ڈی کنفلیکشن سیل‘ قائم کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ یہ سیل فریقین اور لبنان کے درمیان رابطہ کاری کا کام کرے گا اور ثالثی کرنے والے ممالک اس میں معاونت فراہم کریں گے۔ تمام امور پر تکنیکی مذاکرات برجن اسٹاک ریسورٹ میں اس ہفتے کے باقی دنوں میں بھی جاری رہیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تہران کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایران کو لبنان میں اپنے ان گروہوں کو روکنا چاہیے جن کی وہ مالی مدد کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ گروہ مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو ہم ایران پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے، جیسا ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا، لیکن اس بار اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ اس بیان پر ایران کی طرف سے سخت رد عمل ظاہر کیا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو اپنی زبان سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ نہیں سمجھتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو وہ آج اس مایوس کن صورتحال میں نہ ہوتے؟ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، انہیں اپنے بیانات سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ ہماری مسلح افواج ان کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، وہ جو بھی کہیں گے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘