ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منگلورو: موسلادھار بارش سے کیتھیکل پہاڑی دوبارہ کھسکنے لگی، قومی شاہراہ 169 پر خطرے کی گھنٹی

منگلورو: موسلادھار بارش سے کیتھیکل پہاڑی دوبارہ کھسکنے لگی، قومی شاہراہ 169 پر خطرے کی گھنٹی

Wed, 05 Aug 2026 12:35:47    S O News
منگلورو: موسلادھار بارش سے کیتھیکل پہاڑی دوبارہ کھسکنے لگی، قومی شاہراہ 169 پر خطرے کی گھنٹی

منگلورو، 5/ اگست (ایس او نیوز )  مسلسل اور موسلادھار بارش کے باعث منگلورو-موڈ بیدرے قومی شاہراہ (این ایچ-169) پر واقع کیتھیکل (Kethikal) پہاڑی ایک بار پھر کھسکنے لگی ہے، جس کے بعد شاہراہ پر سفر کرنے والے مسافروں اور مقامی لوگوں میں شدید تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، منگلورو-مودوبیدرے قومی شاہراہ کو چار رویہ بنانے کے منصوبے کے تحت آنے والے کیتھیکل علاقے میں منگل کے روز پہاڑی سے مٹی اور بڑے بڑے پتھر سرک کر شاہراہ کی جانب گرنا شروع ہوگئے۔ ترووائیلو سرکاری اسکول کے قریب واقع اس مقام پر گزشتہ کئی دنوں سے جاری مسلسل بارش کے باعث پہاڑی کی مٹی کمزور پڑ چکی ہے، جس سے مزید لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شاہراہ کی تعمیراتی کمپنی گزشتہ ایک ماہ سے پہاڑی کے دامن میں حفاظتی دیوار (ریٹیننگ وال) تعمیر کر رہی ہے تاکہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ تاہم مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ شدید بارش کے دوران ایسی حفاظتی دیواریں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں، اور موجودہ صورتحال نے ان کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال بھی اسی کیتھیکل علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی، جس کے بعد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پہاڑی پر سیمنٹ کی حفاظتی تہہ چڑھائی گئی تھی۔ بارش کا پانی پہاڑی کے اندر نہ پہنچ سکے، اس مقصد کے لیے سیکڑوں نکاسی آب کے پائپ بھی نصب کیے گئے تھے، لیکن گزشتہ سال کی شدید بارشوں میں اس حفاظتی نظام کا بڑا حصہ متاثر ہوگیا تھا۔

اس مرتبہ جس مقام پر دوبارہ لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوئی ہے، وہاں شاہراہ اور پہاڑی کے درمیان نئی حفاظتی دیوار تعمیر کی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس دیوار کی بنیاد مناسب گہرائی تک نہ ہو تو شدید بارش کے دوران نیچے کی مٹی ڈھیلی ہونے سے اوپر موجود بڑے پتھر آسانی سے سرک سکتے ہیں، جس سے خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

مقامی لوگوں کے مطابق پہاڑی کے اوپری حصے میں اب بھی کئی بڑے پتھر اور درخت انتہائی خطرناک حالت میں موجود ہیں۔ اگر آئندہ دنوں میں بارش کی شدت میں اضافہ ہوا تو ان کے شاہراہ پر گرنے کا اندیشہ ہے، جس سے ٹریفک اور انسانی جانوں کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

گزشتہ سال کی لینڈ سلائیڈنگ کے بعد اس مقام پر فور لین شاہراہ میں صرف ٹو لین پر ٹریفک بحال کی گئی تھی۔ اب ایک بار پھر پہاڑی کھسکنے کے واقعات شروع ہونے سے قومی شاہراہ کی سلامتی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔


Share: