بینگلورو ، 30 / اگست (ایس او نیوز) ڈونالڈ ٹرمپ کی امریکی حکومت نے بیرونی ممالک برآمدات پر ٹیرف یا ٹیکس کی جو پالیسی اپنائی ہے اور اس کے تحت ہندوستانی مصنوعات پر 50% ٹیرف جو لاگو کیا ہے اس کے منفی اثرات کرناٹکا کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر ہونے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں ۔
ہندوستان پر 50% امریکی ٹیرف کا اطلاق چار شنبہ سے ہوا ہے اور اسی کے ساتھ تریپورہ، نوئیڈا اور سورت جیسے مراکز میں ٹیکسٹائل تیار کرنے والوں نے اپنا پروڈکشن روک دیا ہے ۔ حالانکہ فیڈریشن آف کرناٹکا چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ایم جی بالا کرشنا نے کرناٹکا میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پرامید رہنے کی صلاح دی ہے اور کہا ہے کہ امریکی ٹیرف کا " کچھ حد تک اثر انڈسٹری پر پڑے گا اور امریکہ کی طرف سے امپورٹ کرنا بند ہوگا تو یہاں گارمنٹ [لباس] کا پروڈکشن متاثر ہوگا ۔ اس کے باوجود فیبرک یا کپڑے کا تیار کرنے کا کام جاری رہے گا کیونکہ ہندوستان میں ہو یا پھر بنگلہ دیش، ویتنام یا کمبوڈیا میں ہو، گارمنٹس تیار کرنے کے لئے فیبرک کی ضرور رہتی ہے اس لئے اس کیا مانگ جاری رہے گی ۔ اس کی وجہ سے ہندوستان فائدے میں رہے گا ۔"
بالا کرشنا کا کہنا ہے کہ گارمنٹس انڈسٹری میں عارضی طور پر ملازمت کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے، لیکن تین مہینوں کے اندر اس میں ٹھہراو آ سکتا ہے ۔
ٹریڈ ایکٹیویسٹ سجّن راج مہتا کا خیال ہے کہ " کرناٹکا کا گارمنٹ سیکٹر فوری طور پر مشکل محسوس کرے گا ۔ آرڈر کینسل ہونے، ایکسپورٹ میں کمی آنے اور نوکریاں چلی جانے کا خطرہ موجود ہے ۔" مہتا کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بقاء کے لئے مضبوط تجارتی پالیسیاں، ہنگامی اقدامات اور مختلف جہتوں میں تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات بے حد ضروری ہیں ۔
ادھر تملناڈو کے وزیر اعلیٰ اسٹالن اور وزیر صنعت راجا نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے میں مداخلت کرے کیونکہ 50% ٹیرف لاگو کرنے کی امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسی کی وجہ سے تملناڈو کی معیشت بری طرح متاثر ہونے کا امکان ہے ۔ اس سے قبل 16 اگست کو وزیر اعلیٰ اسٹالن نے وزیر اعظم نریندرا مودی کو مراسلہ بھیجتے ہوئے چوکنا کیا تھا کہ امریکی ٹیرف کی وجہ سے تملناڈو کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی پٹری اسے اتر جانے کا خدشہ ہے ۔ اس لئے اگر اس معاملے میں مرکز کی طرف سے مداخلت نہیں کی گئی تو پھر 30 لاکھ ملازمین کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا ۔
وزیر صنعت راجا کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت نے 50% امریکی ٹیرف کے معاملے میں چپکی سادھ رکھی ہے اور ایسے سنگین موڑ پر مہاراشٹرا اور تملناڈو جیسی اہم ریاستوں کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے میں ناکام رہی ہے ۔