بنگلورو، 13/ اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک اسمبلی نے 2025 کا "کرناٹک رجسٹریشن ترمیمی بل" منظور کر لیا، جس کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو آسان، شفاف اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس قانون کے ذریعے عوام کو رجسٹری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات دلانے، افسران کی براہِ راست مداخلت کم کرنے اور بدعنوانی پر قابو پانے کے لیے متعدد اصلاحات کی گئی ہیں۔
وزیر مالگزاری و رجسٹریشن کرشنا بائرے گوڈا نے ایوان کو بتایا کہ ترمیمی قانون کے تحت سیکشن 9 (اے) میں کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل دستخط لازمی قرار دیے گئے ہیں۔ اس نظام کے تحت بنگلور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (بی ڈی اے) کی جانب سے الاٹ شدہ زمین یا پلاٹ کی رجسٹری، رجسٹرار افسر کی موجودگی کے بغیر، خودکار طور پر مکمل ہو سکے گی۔ اسی طرح تحصیلدار کو 94 سی اور 94 سی سی دفعات کے تحت زمین کی رجسٹری کا اختیار دے دیا گیا ہے، اور اگر منظور شدہ اراضی کے دستاویزات وہ آن لائن اپ لوڈ کریں تو رجسٹری خود بخود مکمل ہو جائے گی۔ اس سے کسانوں کو قرض کی ادائیگی یا ریکارڈ درستگی کے لیے دفاتر کے چکر کاٹنے اور درمیانی افراد کو رقم دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
سیکشن 32 میں ترمیم کے بعد تمام اراضی و جائیداد کے کاغذات صرف ڈیجیٹل شکل میں جمع اور تصدیق ہوں گے، جس سے جعلی کاغذات کے ذریعے دھوکہ دہی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ ماضی میں بی بی ایم پی سمیت کئی بلدیاتی اداروں میں جعلی کاغذات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر فراڈ کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سیکشن 11 (ای) کے تحت 2011 سے لازمی قرار دی گئی اسکیچ (نقشہ) کی شرط کو اب باضابطہ طور پر قانونی دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے کہا کہ یہ ترامیم عوام دوست اقدامات کا حصہ ہیں، جن سے رجسٹریشن کے عمل میں شفافیت اور سہولت آئے گی اور بدعنوانی میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔