ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک لینڈ ریونیو ترمیمی بل 2025 منظور، زمین کے استعمال میں آسانی، چھوٹے صنعتکاروں اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو سہولت

کرناٹک لینڈ ریونیو ترمیمی بل 2025 منظور، زمین کے استعمال میں آسانی، چھوٹے صنعتکاروں اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو سہولت

Wed, 13 Aug 2025 17:57:54    S O News
کرناٹک لینڈ ریونیو ترمیمی بل 2025 منظور، زمین کے استعمال میں آسانی، چھوٹے صنعتکاروں اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو سہولت

بنگلورو، 13 /اگست (ایس او نیوز / ایجنسی) کرناٹک اسمبلی نے "کرناٹک لینڈ ریونیو ترمیمی بل 2025" کو منظور کر لیا، جس کے تحت زرعی زمین کے حصول اور استعمال کے قوانین میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ اس ترمیم کا مقصد چھوٹے صنعتکاروں، تعلیمی اداروں اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینا اور غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے۔

وزیر مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا نے بتایا کہ پہلے زرعی زمین کو تعلیمی اداروں یا چھوٹی صنعتوں کے لیے خریدنے کی اجازت لینا سیکشن 109 کے تحت صرف ریاست کے چیف سیکریٹری کے دائرہ اختیار میں تھا، لیکن اب یہ اختیار ضلعی کمشنر کو دے دیا گیا ہے۔ نئی ترمیم کے مطابق ضلعی کمشنر 4 ہیکٹر تک زمین خریدنے کی اجازت دے سکیں گے، اور یہ اجازت خود بخود زمین کی تبدیلی (کنورژن) کے مترادف ہوگی۔

ترمیم میں یہ سہولت بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارے یا صنعتکار نے زمین کسی مخصوص مقصد کے لیے خریدی ہو لیکن بعد میں اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہے تو اس کی بھی اجازت دی جا سکے گی، جو پہلے ممکن نہیں تھی۔ مزید یہ کہ ریاست میں 2 ایکڑ تک زمین کو صنعتی استعمال میں لانے کے لیے کنورژن کی شرط سے استثنا دے دیا گیا ہے تاکہ چھوٹے صنعتکاروں کو آسانی ہو۔

وزیر کرشنا بائرے گوڈا نے بتایا کہ قابلِ تجدید توانائی کا شعبہ، خصوصاً سولار اور ونڈ پاور، تیزی سے ترقی کر رہا ہے لیکن بدعنوانی اور درمیانی افراد کی مداخلت کی وجہ سے سرمایہ کاری میں رکاوٹ آ رہی تھی۔ نئی ترمیم کے تحت سولار اور ونڈ پاور پلانٹس کے قیام کے لیے آٹو کنورژن کی سہولت دی گئی ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو براہِ راست اجازت ملے اور منصوبے تیزی سے مکمل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم وزیراعلیٰ سدارامیا کی خصوصی سفارش پر طویل غور و خوض کے بعد منظور کی گئی ہے، جس سے ریاست میں صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کو مزید تقویت ملے گی۔


Share: