ینگلورو 28 / ستمبر (ایس او نیوز) پچھلے دنوں کمٹہ تعلقہ کے گوکرن میں ایک غار کے اندر ایک روسی خاتون اور اس کی دو بچیوں کی بازیابی کا جو معاملہ سامنے آیا تھا اس سلسلے میں کرناٹکا ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو ان تینوں کے لئے سفری دستاویزات جاری کرنے کی اجازت دی ہے ۔
خیال رہے کہ امسال 11 جولائی کو نینا کوٹینا نامی روسی خاتون اور اس کی دو بچیاں گوکرن کے رام تیرتھا ہِلس نامی علاقے میں غار کے اندر رہتے ہوئے پائی گئی تھیں ۔ سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ یہ لوگ اس غار میں تقریباً دو مہینے سے قیام پزیر تھے اور ان کے پاس کسی بھی قسم کے باضابطہ سفری اجازت نامے یا رہائشی دستاویزات موجود نہیں تھے ۔
گزشتہ سال دسمبر میں درور شولومو گولڈاسٹین نامی ایک اسرائیلی شخص نے گوا کے پنجی پولیس اسٹیشن میں اپنی بیوی اور بچیوں کے لاپتہ ہونے کی شکایت درج کروائی تھی ۔
جب گوکرن میں نینا کوٹینو اور دو بچیوں کی بازیابی کی بات سامنے آئی تو شولومو نے بچیوں کے باپ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کرناٹکا ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اورعدالت سے مانگ کی تھی کہ مرکزی حکومت کو نابالغ بچیوں کو فوری طور پرملک بدر نہ کرنے کی ہدایت جاری کی جائے ۔
ہائی کورٹ میں اس معاملے پر سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کو نوٹ کیا کہ روسی سفارت خانے کی جانب سے کوٹینا اور اس کی بچیوں کے لئے سفری دستاویزات جاری کیے ہیں جو 9 اکتوبر تک ہی قابل استعمال ہیں ۔ اس کے علاوہ کوٹینا نے بھی عدالت کے سامنے اپنا موقف رکھتے ہوئے جلد سے جلد روس چلے جانے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔
شومولو گولڈاسٹین نے نینا کوٹینا اور بچِیوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی اور بچیوں کی تحویل کا مسئلہ عدالت سے حل ہونے تک اس تجویز پر عمل نہ کرنے کی مانگ کی تھی ۔ لیکن عدالت کا موقف یہ رہا کہ گولڈ اسٹین نے اس سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب فراہم نہیں کیا کہ نینا اور اس کی دو بچیاں ایک غار کے اندر تنہائی کی زندگی کیوں گزار رہے تھے ۔
اس پس منظر میں عدالت نے کہا کہ بچیوں کی ماں کی طرف سے روس لوٹنے کی خواہش اور روسی حکومت کی جانب سے سفری اجازت نامے دستاویزات فراہم کرنا بقیہ تمام باتوں پر حاوی ہے اس لئے نینا کوٹینا اور اس کی بچیوں کو روس جانے کے لئے اجازت نامہ فراہم کیا جائے ۔