بینگلورو، 22 / ستمبر (ایس او نیوز) راجدھانی بینگلورو کو چھوڑ کر ریاست کے بقیہ تمام علاقوں میں 'سماجی ، معاشی و تعلیمی سروے' کی کارروائی کل 21 ستمبر سے شروع ہوئی ۔
کرناٹکا اسٹیٹ بیک ورڈ کلاسس کمیشن کے چیرمین مدھو سدن آر نائک نے پریس کانفرنس کے ذریعے بتایا کہ اب باضابطہ طور پر 22 ستمبر سے پوری ریاست میں اس سروے کی کارروائی آگے بڑھے گی جبکہ حال ہی میں گریٹر بینگلورو اتھاریٹی [جی بی اے] کی تشکیل ہونے کی وجہ سے سروے کے اساتذہ کو مامور کرنے سمیت کئی مراحل میں رکاوٹ سامنے آئی جس کی وجہ سے بنیگلورو شہر میں سروے کی کارروائی تین دن تاخیر سے شروع ہوگی ۔ اس سروے کے دوران چھ سال سے زیادہ عمر کے ہر شہری کے لئے اپنا آدھار کارڈ نمبر بتانا لازمی ہوگا ۔
16 دن تک چلے گا سروے :انہوں نے بتایا کہاب تک دو کروڑ گھروں کی جیو ٹیگنگ اور گنتی کے لئے بلاک بنانے کا کام پورا ہوا ہے ۔ اس میں گھروں اور راستوں کی نشاندہی کی گئی ہے جس سے سروے کرنے والوں کو متعلقہ گھروں تک پہنچنے میں آسانی ہوگی ۔ تقریباً دو لاکھ اساتذہ اور عملے کو اس کام میں لگایا گیا ہے ۔ سروے کرنے والے ایک اہلکار کو 140تا 150 گھروں کے سروے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ سروے کی نگرانی کا کام مختلف محکمہ جات کے افسران کو سونپا گیا ہے ۔ اہلکاروں کو ایک دن میں سات سے آٹھ گھروں کا سروے کرنا ہے اور ریاست بھر میں تقریباً 2 کروڑ گھروں کا سروے موبائل ایپ میں 16 دن کے اندر مکمل کرنا ہے اور اس کے لئے انہیں خصوصی تربیت دی گئی ہے ۔
33 ذاتوں کو پسماندہ زمرے سے ہٹایا گیا :کمیشن کے چیرمین مدھو سدن کے بیان کے مطابق کئی ذاتوں کے ساتھ 'کرشچن' مذہب لکھے ہونے کی بات سامنے آنے کے بعد بیک ورڈ کلاسس کمیشن نے باضابطہ طور پر 33 ذاتوں کو سروے کے فارم میں موجود پسماندہ ذات کے زمرے سے ہٹا دیا ہے ۔ مثال کے طور پر جن کی ذات کے آگے اکّا سالی کرشچن، بنجی کرشچن، براہمن کرشچن، دیوانگ کرشچن، مودلیار کرشچن، وشوا کرما کرشچن وغیرہ درج ہے ان کو اس سروے کے لئے پسماندہ ذات زمرے سے خارج کیا گیا ہے ۔ ایسی 33 ذاتوں کو چھوڑ کر کرشچن مذہب کے کالم میں سیریئن کرشچن، پروٹسٹنٹ کرشچن، ایس سی ایس ٹی کرشچن کے کالم کو برقرار رکھا گیا ہے ۔
148 نئی ذاتیں شامل کی گئیں :محکمہ پسماندہ طبقات کے کمشنر دیانندا نے بتایا کہ عوامی آراء اور صلاح و مشورے کے لئے کمیشن نے ذاتوں کی فہرست نشر کی تھی ۔ اس کے جواب میں عام لوگ اور سماجی طبقات نے بعض ذاتوں کو پسماندہ طبقے کے زمرے میں شامل کرنے کی اپیل کی تھی ۔ اسی کے مطابق 148 نئی ذاتوں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ ان نئی شامل کی گئی ذاتوں کے تعلق سے کسی قسم کا اعتراض یا تنازعہ سامنے نہیں آیا ۔
موبائل ایپ میں ذاتوں کی فہرست :کمیشن کے چیرمین نے واضح کیا کہ ذات تشکیل دینے کا کام کمیشن کی طرف سے نہیں کیا جاتا ۔ پہلے سے جو ذاتیں موجود ہونے بات کہی جاتی ہے اسی کے مطابق ایک فہرست سروے کرنے والے اہلکاروں کے موبائل ایپ میں فراہم کی گئی ہے ۔ یہ صرف سروے کرنے والوں کی آسانی اور اندرونی استعمال کے لئے ہے ۔ یہ کوئی عوامی دستاویز نہیں ہے ۔ اس فہرست کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ۔ اسے کسی بھی دوسرے مقصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا ۔