ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں خشک سالی کا جامع جائزہ، 102 تعلقوں سے رپورٹ موصول؛ کابینہ اجلاس میں قحط زدہ علاقوں کاہوگا اعلان

کرناٹک میں خشک سالی کا جامع جائزہ، 102 تعلقوں سے رپورٹ موصول؛ کابینہ اجلاس میں قحط زدہ علاقوں کاہوگا اعلان

Thu, 27 Aug 2026 12:22:43    S O News

بنگلورو، 27/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) کرناٹک میں خشک سالی کی صورتحال کا جامع جائزہ لیا جارہا ہے اور ریاست کے 102 تعلقوں سے زمینی صورتحال کی رپورٹ موصول ہوچکی ہے۔ آئندہ ریاستی کابینہ کے اجلاس میں ان رپورٹس پر غور کے بعد قحط زدہ علاقوں کا اعلان کیا جائے گا۔ یہ بات نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر محصولات ڈاکٹر جی. پرمیشور نے کہی۔ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ خشک سالی کا اعلان مرکزی حکومت کے مقررہ ضابطوں اور رہنما اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا اور زمینی حالات کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے بھی خشک سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ٹیمیں روانہ کی تھیں، لیکن اس معاملے کو اسمبلی میں بحث کے لیے نہیں اٹھایا گیا۔ نہ وزیر اعلیٰ کو اور نہ ہی وزیر محصولات کی حیثیت سے انہیں کوئی رپورٹ یا تحریری یادداشت پیش کی گئی۔

نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے بعض علاقوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ موجود ہے اور کسانوں کو فصلوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ وہ ان مسائل پر ایوان میں سنجیدہ بحث کریں اور حکومت کو تجاویز پیش کریں، لیکن اس کے بجائے ایوان میں صرف سیاسی بیان بازی کی گئی۔

سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی جانب سے ہائی کمان سے ڈاکٹر پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کی سفارش کیے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سدارامیا نے اپنے استعفے کے وقت ڈاکٹر پرمیشور کو وزیر اعلیٰ بنانے کی بات کہی تھی، تاہم ہائی کمان نے اس تجویز پر عمل نہیں کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پرمیشور کو نائب وزیر اعلیٰ بنایا جانا چاہیے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ سدارامیا کی جانب سے کہی گئی بات درست ہے۔

سابق وزیر بی. ناگیندر کے استعفے سے متعلق سوال پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وزیر اعلیٰ آج یا کل نئی دہلی روانہ ہوسکتے ہیں۔ اگر وہ ہائی کمان سے ملاقات کرتے ہیں تو اس دوران اس معاملے پر بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں ردوبدل سے متعلق فی الحال مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں اور حتمی فیصلہ ہائی کمان کی ہدایت کے مطابق ہوگا۔

ناگیندر کے خلاف الزامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی بھی فردِ جرم میں ان کا نام شامل نہیں ہے۔ ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ وہ خود وزیر داخلہ رہ چکے ہیں اور انہیں اس معاملے سے متعلق معلومات حاصل ہیں۔ مرکزی تفتیشی ادارے سے تحقیقات کرانے کے معاملے پر کابینہ میں بحث کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر پدیاترا نکالنا محض سیاسی اقدام ہے۔ حکومت نے اسمبلی میں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی تھی، لیکن اب احتجاج کیا جارہا ہے۔

پارکوں کی 5 فیصد زمین کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کے بارے میں پوچھے جانے پر ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ زمین عوامی مقصد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں حتمی صورتِ حال اس وقت واضح ہوگی جب متعلقہ شہری ادارے اس سلسلے میں عملی فیصلہ کریں گے۔

سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی کرنے کے لیے فیس وصول کرنے کی تجویز سے متعلق سوال پر نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جب وہ بنگلورو کے نگران وزیر تھے، اس وقت بھی اس معاملے پر بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکیں عوام کی آمدورفت کے لیے ہوتی ہیں، لیکن اگر دونوں جانب گاڑیاں کھڑی کردی جائیں تو سڑکوں کی گنجائش متاثر ہوتی ہے۔ اس معاملے پر بات چیت جاری ہے اور جلد فیصلہ سامنے آئے گا۔

سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کے اس بیان پر کہ عدم مساوات کے خاتمے کے لیے ریزرویشن اور اندرونی ریزرویشن ضروری ہے، ڈاکٹر پرمیشور نے کہا کہ اندرونی ریزرویشن کا نفاذ حکومت پہلے ہی کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے جاری جدوجہد کے پس منظر میں ریاستی حکومت نے اندرونی ریزرویشن نافذ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مجموعی ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے تجاوز نہ کرنے کے اصول کے پیش نظر اندرونی ریزرویشن کے نفاذ کو عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی قانونی حد اور عدالتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست میں اندرونی ریزرویشن نافذ کیا گیا ہے۔


Share: