ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک بجٹ 2026–27: اقلیتوں کی تعلیم، روزگار اور فلاح کے لیے متعدد اہم اعلانات

کرناٹک بجٹ 2026–27: اقلیتوں کی تعلیم، روزگار اور فلاح کے لیے متعدد اہم اعلانات

Sat, 07 Mar 2026 11:01:16    S O News

بنگلورو، 7/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)  وزیر اعلیٰ سدارامیا نے جمعہ کے روز پیش کیے گئے ریاستی بجٹ 2026–27 میں اقلیتی برادریوں کی تعلیم، سماجی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے متعدد اہم منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اس بجٹ میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی نئی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ جن اضلاع میں طلبہ کی رہائش کی زیادہ ضرورت ہے وہاں 150 طلبہ کی گنجائش والے 25 نئے پوسٹ میٹرک ہاسٹل قائم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پہلے سے جاری 25 ہاسٹلوں میں طلبہ کی گنجائش میں مزید 50 طلبہ کا اضافہ کیا جائے گا۔

اقلیتی رہائشی اسکولوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے  سنت شیشونال شریفؒ کے نام پر 10 نئے رہائشی اسکول قومی نصاب (سی بی ایس سی)  کے تحت شروع کیے جائیں گے، جس کے لیے رواں مالی سال میں 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ آئندہ مرحلے میں اسی نام سے 25 نئے رہائشی اسکول بھی قائم کیے جائیں گے۔

تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے 117 مولانا آزاد ماڈل اسکولوں اور اردو اسکولوں کو پہلے ہی جدید طرز پر ترقی دی جا رہی ہے، جب کہ اس سال مزید 100 اسکولوں کو 400 کروڑ روپے کی لاگت سے اپ گریڈ کیا جائے گا۔

اقلیتی رہائشی اسکولوں کے باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے تیار کرنے کی غرض سے چار رہائشی اسکولوں کو مرکزِ امتیاز کے طور پر قائم کیا جائے گا، جہاں منتخب طلبہ کو داخلہ امتحانات جیسے کے سی ای ٹی، جے ای ای اور نیٹ کی معیاری تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ 20 دیگر رہائشی اسکولوں میں بھی ان امتحانات کے لیے خصوصی کوچنگ دی جائے گی۔ وقف اداروں کے زیر اہتمام چلنے والے 31 پی یو کالجوں کو ڈگری کالجوں کے طور پر ترقی دی جائے گی ۔

بجٹ میں اقلیتی نوجوانوں کی تعلیم اور ٹیکنالوجی تک رسائی بڑھانے کے لیے پانچ ہزار مستحق طلبہ کو لیپ ٹاپ خریدنے کے لیے فی کس پچاس ہزار روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

معاشی خود کفالت کو فروغ دینے کے مقصد سے اقلیتی برادری کے بے روزگار نوجوانوں کے لیے موبائل فوڈ کچن، فاسٹ فوڈ ٹرک اور فوڈ کیوسک شروع کرنے کے لیے بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اس اسکیم کے تحت یونٹ لاگت کا 75 فیصد یا زیادہ سے زیادہ تین لاکھ روپے بطور امداد دیے جائیں گے۔

اقلیتی خواتین کی خود کفالت کو فروغ دینے کے لیے خواتین کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی جائیں گی تاکہ خواتین کے خود روزگار کے منصوبوں کو تقویت مل سکے۔

ورکنگ وویمنز کیلئے چار ہاسٹل قائم ہونگے، اسی طرح اقلیتی برادری کے بے سہارا افراد کے لیے دو خواتین کے اولڈ ایج ہوم قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال کے لیے عیسائی اداروں کے زیر انتظام 10 اولڈ ایج ہومز میں جامع طبی نگہداشت کے مراکز قائم کیے جائیں گے، جس کے لیے مجموعی طور پر چار کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے۔

حج پر جانے والے عازمین کی سہولت کے لیے ہبلی اور کلبرگی میں جدید حج بھون تعمیر کیے جائیں گے تاکہ عازمین اور ان کے اہل خانہ کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ دستور ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور دیگر رہنماؤں کی تصنیفات کا اردو میں ترجمہ کیا جائے گا تاکہ ان کے افکار و نظریات سے متعلق اقلیتی طبقات میں بیداری پیدا ہو۔

اس کے علاوہ جین، بدھ اور سکھ برادریوں کی ہمہ جہتی ترقی کے لیے 100 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ بدھ مذہب کے دھمّاچاریوں کو ماہانہ چھ ہزار روپے اعزازیہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ وقف املاک کو عوامی و نجی شراکت داری کے تحت ترقی دے کر انہیں تجارتی اور سماجی مقاصد کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔ مزید برآں بیدر کے نانک جھیرہ صاحب گرودوارہ میں ایک جدید کتب خانہ قائم کیا جائے گا۔

اسی طرح محکمہ کنڑا و ثقافت کے زیر اہتمام خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی تعلیمات کو عام کرنے کیلئے ناٹک نمایش کا اہتمام کیا جائے گا ۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد اقلیتی برادریوں کو تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور ریاست میں مساوی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔


Share: