بنگلورو، 14 /اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) کرناٹک اسمبلی نے بدھ کے روز 2025ء کا گوڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) ترمیمی بل منظور کر لیا، جس کا مقصد ریاست میں ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ اس بل کے تحت ’’ٹریک اینڈ ٹریس‘‘ نظام کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ٹیکس چوری اور ان پٹ ٹیکس کریڈٹ (آئی ٹی سی) کے غلط استعمال کی روک تھام کی جا سکے۔
وزیر برائے مالگزاری کرشنا بائرے گوڈا نے ایوان کو بتایا کہ ہر ریاست اپنی تجاویز جی ایس ٹی کونسل کو پیش کرتی ہے، اور کونسل کی منظوری کے بعد تمام ریاستیں انہیں نافذ کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں آئی ٹی سی ریفنڈ اسکیم کے تحت بڑے گھوٹالے منظر عام پر آ چکے ہیں، اس لیے اس نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔
وزیر نے انکشاف کیا کہ تمباکو، کشمش، پان مسالا اور گٹکا جیسی اشیاء میں بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری ہو رہی ہے، جس میں فروخت کے سرکاری ریکارڈ اور حقیقی مقدار میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کرناٹک سے آندھرا پردیش، تلنگانہ، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے راستے لاکھوں ٹرک لوڈز کی نقل و حرکت ہوتی ہے، جو ایک منظم نیٹ ورک کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔
’’ٹریک اینڈ ٹریس‘‘ سسٹم کے ذریعے خام مال سے لے کر تیار شدہ مصنوعات تک ہر مرحلے پر اشیاء کی نگرانی کی جائے گی، تاکہ فروخت کے حجم کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ وزیر نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستیں اس نظام کی پابندی کریں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے جی ایس ٹی کونسل کا اجلاس متوقع ہے اور اس ترمیمی بل کی منظوری کے بغیر ریاست اجلاس میں شریک نہیں ہو سکتی تھی، اسی لیے یہ بل فوری طور پر ایوان میں پیش کر کے منظور کیا گیا۔