نئی دہلی، 24 ستمبر (ایس او نیوز): چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے مبینہ طور پر بار بار تحریری اعتراضات سامنے آنے کے بعد راجیہ سبھا رکن اور سینئر وکیل کپل سبل نے گیانیش کمار کی فوری معطلی، انتخابی فہرستوں کو حتمی شکل دینے کا عمل روکنے اور پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے گیانیش کمار کے اقدامات کے پیچھے ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور ذمہ دار سرکاری افراد کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔
سبل کا یہ ردعمل انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ الیکشن کمیشن کے بعض فیصلوں اور احکامات پر ریکارڈ پر اعتراضات درج کیے تھے۔ یہ اعتراضات نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف اور بحال کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا تک رسائی سمیت مختلف معاملات سے متعلق تھے۔
کپل سبل نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن تین ارکان پر مشتمل ہے اور فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق اگر دو الیکشن کمشنروں کے اعتراضات کے باوجود فیصلے کیے گئے تو ان کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے تمام فیصلوں کا جائزہ لیا جانا چاہیے جو مبینہ طور پر کمیشن کی اکثریت کی منظوری کے بغیر کیے گئے۔
سبل نے ایس آئی آر کے تحت ووٹر فہرستوں کو حتمی شکل دینے کا عمل فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے اور ایف آئی آر درج کرکے یہ معلوم کیا جانا چاہیے کہ گیانیش کمار کے مبینہ اقدامات کے پیچھے کون لوگ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مطالبات پر کارروائی نہیں ہوتی تو سیاسی جماعتوں کو ملک بھر میں پُرامن احتجاج شروع کرنا چاہیے۔ �
سبل نے سپریم کورٹ سے بھی معاملے میں مداخلت کرنے اور غیر معمولی آئینی اختیار کے استعمال، حتیٰ کہ حالیہ انتخابات کے بارے میں ازسرنو انتخاب کرانے کے امکان پر غور کرنے کی اپیل کی۔ �
The Pioneer +1
دریں اثنا، اکھلیش یادو نے سپریم کورٹ سے براہ راست اس معاملے کا ازخود (suo motu) سنگیان لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الیکشن کمشنروں کی مبینہ 14 تحریری اعتراضات کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا۔ �