ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سدارامیا کا اعتراض، گیانیش کمار کو ہٹانے اور تحقیقات کا مطالبہ

الیکشن کمیشن کے کام کاج پر سدارامیا کا اعتراض، گیانیش کمار کو ہٹانے اور تحقیقات کا مطالبہ

Thu, 24 Sep 2026 12:33:26    S O News

بنگلورو ، 24/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں الیکشن کمیشن کے کام کاج سے متعلق سامنے آنے والی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

سدارامیا نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ایک انگریزی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین رکنی الیکشن کمیشن میں موجود دو الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں اور اقدامات پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے۔ سدارامیا کے مطابق رپورٹ میں جن معاملات کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، ووٹر فہرست میں ناموں کا اندراج اور اخراج، انتخابی فہرست کے اعداد و شمار کے انتظام اور خصوصی جامع نظرِ ثانی یعنی ایس آئی آر سے متعلق امور شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات انتخابی عمل میں شفافیت اور قانونی طریقۂ کار کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں ایک نئے سوال کے اضافے پر بھی اعتراض کیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تبدیلی کو ایک الیکشن کمشنر نے ’’غیر مجاز اور غیر قانونی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اسے حکومت کو بھیجا جانا چاہیے تھا۔ سدارامیا نے انتخابی فہرست کے اعداد و شمار کے انتظام میں مبینہ مرکزی سطح پر ارتکاز پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق اگر قانونی اختیار رکھنے والے مقامی انتخابی افسران کو انتخابی ڈیٹا کے نظام تک رسائی کے حوالے سے مشکلات پیش آتی ہیں تو الیکشن کمیشن کو اس کی وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نے مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران سامنے آنے والے معاملات کا بھی حوالہ دیا۔ سدارامیا کے بیان کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتخابی فہرست سے نام حذف کرنے سے متعلق بڑی تعداد میں اپیلیں دائر کی گئی تھیں اور اس عمل کی بنیاد اور اجازت کے بارے میں الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ سدارامیا نے کہا کہ انتخابی کمیشن کی کارروائی کسی ایک فرد کے فیصلوں تک محدود ہونے کے بجائے آئینی اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کام کسی حکومت یا سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں ہونا نہیں بلکہ آئین اور ووٹر کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی اہل شہری کا نام انتخابی فہرست سے غلط طریقے سے خارج ہوجاتا ہے تو یہ محض ایک نام کے حذف ہونے کا معاملہ نہیں بلکہ اس شہری کے آئینی حقِ رائے دہی سے متعلق اہم مسئلہ بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق انتخابی فہرستوں، ایس آئی آر اور کمیشن کے اندرونی اختلافات سے متعلق معاملات میں شفافیت اور ضرورت پڑنے پر آزادانہ جانچ ہونی چاہیے۔

سدارامیا نے  چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی قیادت میں کمیشن کے کام کاج پر سخت اعتراض کرتے ہوئے صدرِ جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف تحقیقات کے لیے مرکزی حکومت کو ہدایات دی جائیں۔


Share: