ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گیانیش کمار کو 48 گھنٹے میں استعفیٰ دینے کا کروچ جنتا پارٹی کا الٹی میٹم؛ نہ دینے کی صورت میں ہوگا ’جنتر منتر 2‘

گیانیش کمار کو 48 گھنٹے میں استعفیٰ دینے کا کروچ جنتا پارٹی کا الٹی میٹم؛ نہ دینے کی صورت میں ہوگا ’جنتر منتر 2‘

Thu, 24 Sep 2026 23:09:39    S O News
گیانیش کمار کو 48 گھنٹے میں استعفیٰ دینے کا کروچ  جنتا پارٹی کا الٹی میٹم؛ نہ دینے کی صورت میں ہوگا ’جنتر منتر 2‘

نئی دہلی، 24 ستمبر (ایس او نیوز): کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا اور دہلی کے جنترمنتر پر دوبارہ بڑا احتجاج کیا جائے گا، جسے تنظیم نے ’’جنتر منتر 2.0‘‘ کا نام دیا ہے۔

CJP کے بانی اور کنوینر ابھجیت دیپکے نے جمعرات کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر گیانیش کمار 48 گھنٹے کے اندر استعفیٰ نہیں دیتے تو تنظیم ملک گیر احتجاج شروع کرے گی اور اس کے بعد دہلی میں غیر معینہ مدت کا دھرنا دیا جائے گا۔ تنظیم نے اس موقع پر ’’الیکشن کمیشن ٹھیک کرو‘‘ کے نام سے ملک گیر مہم شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

CJP کا یہ اعلان الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات سے متعلق انڈین ایکسپریس کی حالیہ تحقیقی رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ تقریباً 10 ماہ کے دوران کمیشن کے نام پر لیے گئے فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے۔ ان اعتراضات میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR)، ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے اندراج اور انتخابی فہرستوں سے متعلق ڈیجیٹل نظام میں تبدیلیاں شامل تھیں۔

CJP نے ان رپورٹوں کو بنیاد بناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے کام کاج اور ووٹر لسٹوں کی تیاری کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ تنظیم کے مطابق SIR کے دوران ملک بھر میں 30 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مسودہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے گئے ہیں اور اس عمل کی شفافیت کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔

CJP کے شریک کنوینر  سورو داس نے الزام لگایا کہ انتخابی فہرستوں سے نام شامل کرنے اور حذف کرنے کے عمل میں مرکزی سطح پر سافٹ ویئر کے ذریعے فیصلوں کا اثر بڑھ گیا ہے۔ تنظیم نے خاص طور پر فارم 6، جو نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور ووٹر لسٹ سے متعلق مرکزی ڈیجیٹل نظام کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق نوجوان ووٹروں، بالخصوص پہلی مرتبہ ووٹر بننے والوں کو اندراج کے عمل میں مشکلات کا سامنا ہے۔

CJP نے گیانیش کمار کے استعفے کے علاوہ مزید مطالبات بھی پیش کیے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق تنظیم نے جاری SIR عمل کو فوری طور پر منجمد کرنے، آئندہ انتخابات کے عمل کو روکنے، جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ کو بحال کرنے، SIR سے متعلق فیصلوں کی آزادانہ تحقیقات کرانے اور الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو ختم کرکے نیا قانونی فریم ورک بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے بعض معاملات میں فوجداری کارروائی شروع کرنے اور یہ واضح کرنے کا بھی مطالبہ کیا کہ متنازع فیصلوں کی منظوری کس سطح پر دی گئی۔

CJP نے سپریم کورٹ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور مطالبہ کیا کہ SIR سے متعلق تمام فائلیں عدالت کی تحویل میں لی جائیں۔

’جنتر منتر 2.0‘ کیوں؟
CJP کی موجودہ دھمکی اس لیے بھی اہم ہے کہ تنظیم نے رواں سال جون اور جولائی میں دہلی کے جنتر منتر پر تقریباً سات ہفتوں تک امتحانی نظام اور مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ اس وقت اس کی اہم مانگ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھی۔ 20 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔

بعد میں 25 جولائی کو دھرمیندر پردھان نے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا، جس کے بعد CJP نے اپنا 49 روزہ احتجاج ختم کردیا تھا۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کرنے کے فیصلے کے ساتھ مظاہرین کے خلاف FIRs واپس لینے اور امتحانی اصلاحات سمیت دیگر مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔

اسی سابقہ احتجاج کو بنیاد بناتے ہوئے CJP نے اب الیکشن کمیشن کے خلاف ممکنہ نئے احتجاج کو ’’جنتر منتر 2.0‘‘ قرار دیا ہے۔ اب تنظیم کا کہنا ہے کہ اگر گیانیش کمار 48 گھنٹے میں استعفیٰ نہیں دیتے تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا اور اس کے بعد دہلی میں بڑا احتجاج کیا جائے گا۔

CJP کے رہنماؤں نے اپوزیشن جماعتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں انتخابی عمل پر اعتماد نہیں ہے تو انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے احتجاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔


Share: