واشنگٹن 18 مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی): ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگی کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کے مرکزی ہوائی اڈے بن گوریون ایئرپورٹ سمیت خطے کے فضائی نظام کے شدید متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں پروازیں معطل یا محدود کر دی گئی ہیں اور ہزاروں مسافر متاثر ہوئے ہیں۔
ایک اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دی، جس کے باعث بن گوریون ایئرپورٹ سمیت دیگر ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن مکمل طور پر رک گیا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری بیرونِ ملک پھنس گئے۔
اسرائیلی ایئرپورٹ کی بندش کو لے کر ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اسرائیل کو اپنی فضائی حدود بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جس کے نتیجے میں بن گوریون ایئرپورٹ پر پروازیں معطل ہو گئیں۔
فضائی حدود کی بندش اور عالمی اثرات:
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے جوابی حملوں سے نہ صرف اسرائیل بلکہ ایران، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں بھی فضائی حدود کی بندش یا پابندیوں کے باعث عالمی فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا ہے۔
بین الاقوامی ایئرلائنز نے خطے کے اوپر سے پروازیں منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر دنیا بھر کے مختلف ہوائی اڈوں پر پھنس گئے ہیں۔
محدود بحالی کا آغاز: بعد ازاں اسرائیلی حکام کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ محدود پیمانے پر پروازیں بحال کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے، تاہم یہ بحالی سخت سیکیورٹی نگرانی کے تحت مرحلہ وار کی جا رہی ہے۔
ایرانی مؤقف:
ایرانی میڈیا اور حکام کے مطابق یہ حملے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل سمیت خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
امریکی اور عالمی تجزیہ:
امریکی اور عالمی میڈیا کے مطابق اس جنگ کے باعث نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہوائی سفر کا نظام شدید متاثر ہوا ہے، اور متعدد اہم ہوائی اڈے عارضی طور پر بند یا محدود آپریشن پر مجبور ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو عالمی فضائی ٹریفک، تیل کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت پر اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔