واشنگٹن ، 4/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جنہیں امید تھی کہ ایران کی قیادت کو ختم کرکے وہ تہران کی کمر توڑ دیں گے اور وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائےگا۔ مگر ایسانہیں ہوا۔ایران شدید جوابی حملے کررہاہے جن سے ٹرمپ نہ صرف حیران ہیں بلکہ جھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد زخم خوردہ ایران کے حملے شدید ہوگئے ہیں اور وہ خطہ میں امریکی مفادات اور اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنارہاہے۔اس کو دیکھتے ہوئے امریکی صدر نے اسلامی جمہوریہ میں اقتدار کی تبدیلی کا اپنا ہدف حاصل کرنے کیلئے زمینی فوج بھیجنے کا ارادہ ترک کردیاہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے ۱۴؍ ملکوں سے اپنے شہریوں کو نکل جانے کی ہدایت دی ہے اور کئی ملکوں میں اپنے سفارتخانے بھی بند کردیئے ہیں۔
امریکہ جس پر الزام ہے کہ اسرائیل کو ایران کے شدید حملوں سے بچانے کیلئے اس نے اپنے عرب اتحادیوں کو اکیلا چھوڑ دیا ہے،اسرائیلی شہروں کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ منگل کو پھر ایران نے کامیابی کے ساتھ تل ابیب، یروشلم ، ایلات اور کئی دیگر اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا اور متعدد عمارتوں کو تباہ کردیا۔ دوپہر ڈیڑھ بجے اسرائیلی فوج نے وسطی اسرائیل پر ایرانی میزائل گرنے کی تصدیق کی اوربتایا کہ ’’متاثرہ علاقے میں سرچ اور بچاؤ ٹیمیں سرگرم ہیں۔ ‘‘ منگل کو صبح سے ہی یروشلم اور تل ابیب میں فضائی حملے کے سائرن بجتے رہے اور شہری پناہ کی تلاش میں یہاں وہاں بھاگتے رہے۔ اسرائیلی فوج نے مزید۱۲؍ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ ۱۰؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔اسرائیل اپنے نقصان کو ہمیشہ کم کرکے بتاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ جو پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات پر ایران کے جوابی حملوں اور ۶؍ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جوابدہی کے اندیشوں کی وجہ سے جھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں، نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم ۴؍ ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔ ’نیوزنیشن‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ۶؍ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، حملے اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا جواب جلد دیا جائے گا۔
اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی مفادات پر ایرانی حملوں کو روکنے میں ناکامی کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن(کل ۱۴؍ ممالک) سے امریکی شہریوں کو فوراًنکل جانے کی ہدایت دی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صہیونی ریاست سے نکلنے کی کوشش کرنے والے اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرواسکتا۔