ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / انڈیا اتحاد کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی ’’عوامی مواخذہ‘‘؛ غداری کے الزام میں عدالتی کارروائی کا مطالبہ

انڈیا اتحاد کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی ’’عوامی مواخذہ‘‘؛ غداری کے الزام میں عدالتی کارروائی کا مطالبہ

Sat, 31 Oct 2026 23:45:00    S O News
انڈیا اتحاد کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی ’’عوامی مواخذہ‘‘؛ غداری کے الزام میں عدالتی کارروائی کا مطالبہ

نئی دہلی، 31 اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسیز): اپوزیشن جماعتوں کے انڈیا (INDIA) اتحاد بلاک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ہفتہ کے روز نئی دہلی میں علامتی ’’عوامی مواخذہ‘‘ منعقد کرتے ہوئے ان پر انتخابی عمل میں جانبداری، ووٹر لسٹوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج اور حکمراں بی جے پی کے مفادات کے مطابق کام کرنے کے الزامات عائد کیے۔ اتحاد نے چھ الزامات پر مشتمل قرارداد منظور کرتے ہوئے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف غداری کے الزام میں عدالت میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔

یہ کارروائی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی سرکاری رہائش گاہ 10 راجاجی مارگ پر منعقد ہوئی، جس کی صدارت سابق لوک سبھا اسپیکر میرا کمار نے کی۔ تقریب میں کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمان شریک ہوئے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے کا دعویٰ کرنے والے بعض افراد نے بھی شرکت کی۔

کھرگے کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں الزام لگایا گیا کہ گیانیش کمار نے بی جے پی کی مبینہ سازش کے تحت قومی اور ریاستی انتخابات پر اثرانداز ہونے کے لیے انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اضافے اور اخراج کی کارروائی میں تعاون کیا۔ قرارداد میں خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران مبینہ طور پر 13.2 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے، ووٹر رجسٹریشن کے فارم نمبر 6 میں پارلیمانی نگرانی کے بغیر تبدیلیاں کرنے اور ECINET سافٹ ویئر کے ذریعے انتخابی فہرستوں پر مرکزی کنٹرول قائم کرنے کے الزامات بھی شامل تھے۔

اپوزیشن نے مزید الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے دیگر دو الیکشن کمشنروں کو اہم فیصلوں سے الگ رکھا اور وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اشاروں پر کام کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری اور خودمختاری کو متاثر کیا۔ قرارداد میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ دیگر دونوں الیکشن کمشنروں نے فیصلوں کے طریقہ کار پر کم از کم 14 اعتراضات درج کرائے تھے۔

راہل گاندھی نے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج جمہوری نظام اور شہریوں کے حق رائے دہی پر حملہ ہے۔ انہوں نے 13.3 کروڑ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیے جانے کے بعد انتخابی عمل کی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس چیف الیکشن کمشنر کو جوابدہ بنانے کے لیے عوام کے سامنے آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

کھرگے نے آئین کے آرٹیکل 326 کے تحت بالغ شہریوں کو حاصل حق رائے دہی کو خطرے میں قرار دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو واپس لینے اور جاری خصوصی نظرثانی کی کارروائی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

دوسری جانب بی جے پی نے اپوزیشن کے اس اقدام کو پارلیمنٹ اور جمہوری نظام کا مذاق قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ نئی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی ترجمان سمبت پاترا نے راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن چاہے تو انہیں تاحیات اپنا ’’فرضی وزیراعظم‘‘ بنا کر رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کانگریس پر ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کے تعلق سے عوام کو گمراہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔


Share: